Surah al-Hashr

Irfan Ul Quran
  • MedinanSurah
  • 59By Tilawat
  • 101By Reveal
  • 3Ruku
  • 24Ayats
  • 28Part No
Play Copy
Play Copy
ﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤ

2. وہی ہے جس نے اُن کافر کتابیوں کو (یعنی بنو نضیر کو) پہلی جلاوطنی میں گھروں سے (جمع کر کے مدینہ سے شام کی طرف) نکال دیا۔ تمہیں یہ گمان (بھی) نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور انہیں یہ گمان تھا کہ اُن کے مضبوط قلعے انہیں اللہ (کی گرفت) سے بچا لیں گے پھر اللہ (کے عذاب) نے اُن کو وہاں سے آلیا جہاں سے وہ گمان (بھی) نہ کرسکتے تھے اور اس (اللہ) نے اُن کے دلوں میں رعب و دبدبہ ڈال دیا وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں اور اہلِ ایمان کے ہاتھوں ویران کر رہے تھے۔ پس اے دیدۂ بینا والو! (اس سے) عبرت حاصل کروo

2. He is the One Who collected the disbelievers from amongst the People of the Book (i.e., the tribe of Banu Nadir) from their houses and banished them the first time (from Medina towards Syria). You did not (even) think that they would go away, and they thought that their strong fortresses would save them from (the seizure of) Allah. Then (the torment of) Allah came upon them from where they could not (even) imagine. And He (Allah) cast terror into their hearts, (and thus) they ruined their houses with their own hands and the believers’ hands. So, learn a lesson (from it), O people of vision!

(al-Hashr, 59 : 2)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰ

7. جو (اَموالِ فَے) اللہ نے (قُرَیظہ، نَضِیر، فِدَک، خَیبر، عُرَینہ سمیت دیگر بغیر جنگ کے مفتوحہ) بستیوں والوں سے (نکال کر) اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لوٹائے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہیں اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں (یعنی بنو ہاشم اور بنو عبد المطّلب) کے لئے اور (معاشرے کے عام) یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہیں، (یہ نظامِ تقسیم اس لئے ہے) تاکہ (سارا مال صرف) تمہارے مال داروں کے درمیان ہی نہ گردش کرتا رہے (بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرے)۔ اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم و عطا پر کبھی زبانِ طعن نہ کھولو)، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہےo

7. And whatever (materials of fay—spoils) Allah restored to His Messenger ([blessings and peace be upon him] taking out) from the people of (the towns captured without war in addition to those of Qurayza, Nadir, Fadak, Khaybar and ‘Urayna) belong to Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) and (the Messenger’s) near relatives (i.e., Banu Hashim and Banu ‘Abd al-Muttalib) and the orphans and the needy and the wayfarer (of society at large. This distribution system is to ensure) that (the whole wealth) may not circulate (only) amongst the rich of you (but should circulate amongst all the classes of society). And whatever the Messenger (blessings and peace be upon him) gives you, take that and whatever he forbids you, abstain (from that) and keep fearing Allah (i.e., never scoff at the Messenger’s distribution and award). Surely, Allah is Severe to punish.

(al-Hashr, 59 : 7)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy