Surah al-Mā’idah

Irfan Ul Quran
  • MedinanSurah
  • 5By Tilawat
  • 112By Reveal
  • 16Ruku
  • 120Ayats
  • 6, 7Part No
-
Play Copy
Play Copy
ﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿ

2. اے ایمان والو! اﷲ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ حرمت (و ادب) والے مہینے کی (یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب میں سے کسی ماہ کی) اور نہ حرمِ کعبہ کو بھیجے ہوئے قربانی کے جانوروں کی اور نہ مکّہ لائے جانے والے ان جانوروں کی جن کے گلے میں علامتی پٹے ہوں اور نہ حرمت والے گھر (یعنی خانہ کعبہ) کا قصد کرکے آنے والوں (کے جان و مال اور عزت و آبرو) کی (بے حرمتی کرو کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں) جو اپنے رب کا فضل اور رضا تلاش کر رہے ہیں، اور جب تم حالتِ اِحرام سے باہر نکل آؤ تو تم شکار کرسکتے ہو، اور تمہیں کسی قوم کی (یہ) دشمنی کہ انہوں نے تم کو مسجدِ حرام (یعنی خانہ کعبہ کی حاضری) سے روکا تھا اس بات پر ہرگز نہ ابھارے کہ تم (ان کے ساتھ) زیادتی کرو، اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اﷲ (نافرمانی کرنے والوں کو) سخت سزا دینے والا ہےo

2. O believers! Do not denigrate the signs of Allah, nor the sacred (and venerable) month (i.e., any one of Dhu al-Qa‘da, Dhu al-Hijja, Muharram and Rajab), nor the sacrificial animals sent to the Sacred House—the Ka‘ba—nor the animals brought to Mecca with ritual straps around their necks. Also do not violate the sanctity (of life and property, and honour and dignity) of those resorting to the Sacred House, the Ka‘ba, (for they are the ones) seeking bounty and pleasure of their Lord. And when you take off ihram (the Pilgrim’s garb), then you are allowed to hunt. And never let the enmity of a people incite you to aggression (against them) since they barred you from the Sacred House (i.e., visiting the Ka‘ba). And always support one another in (the works of) righteousness and piety, but do not become accomplices in (works of) sin and transgression. And fear Allah persistently. Indeed, Allah awards severe punishment (to those who disobey and defy).

(al-Mā’idah, 5 : 2)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓ

3. تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے اور (بہایا ہوا) خون اور سؤر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو اور گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور) اور (دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا اور اوپر سے گر کر مرا ہوا اور (کسی جانور کے) سینگ مارنے سے مرا ہوا اور وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا، اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم پانسوں (یعنی فال کے تیروں) کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو (یا حصے تقسیم کرو)، یہ سب کام گناہ ہیں۔ آج کافر لوگ تمہارے دین (کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں) سے مایوس ہو گئے، سو (اے مسلمانو!) تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک (اور پیاس) کی شدت میں اضطراری (یعنی انتہائی مجبوری کی) حالت کو پہنچ جائے (اس شرط کے ساتھ) کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو (یعنی حرام چیز گناہ کی رغبت کے باعث نہ کھائے) تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

3. Forbidden to you is carrion (the animal that dies and is not slaughtered according to Islamic law) and (the discharged) blood and pork and that (animal) on which the name of someone other than Allah has been invoked whilst slaughtering and (the animal) that dies by strangling or by a violent blow (not by any sharp instrument) or by falling from a height or the one that has been gored to death or which has been ripped apart and gnawed by a wild beast, save the one which you slaughter (before it dies), and (that animal too is forbidden) which has been slaughtered on idolatrous altars (dedicated to false gods). And this (is also unlawful) that you learn your fortune through divining (with arrows or divide shares by such means). All these works are sins. This day, the disbelievers have lost all hopes of (their heinous designs because) your Din ([Religion] has prevailed). So, (O believers,) fear them not and always fear Me alone. Today I have perfected your Din (Religion) for you, and have completed My Blessing upon you, and have chosen for you Islam (as) Din (a complete code of life). Then if someone gets into a survival situation (and is forced by) ravenous hunger (and intense thirst i.e., driven by dire necessity, provided) he is not prone to sinning (i.e., eats what is forbidden without being wilfully inclined to sin), then Allah is indeed Most Forgiving, Ever-Merciful.

(al-Mā’idah, 5 : 3)
Play Copy
Play Copy
ﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇﰈ

5. آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگاo

5. This day, good and pure things have been made lawful for you. And the sacrificed animal of those given the (Revealed) Book is (also) lawful for you, whilst your sacrificed animal is lawful for them. And (likewise) chaste Muslim women as well as chaste women from amongst those given the Book before you (are lawful for you) when you have paid them their dower, (provided) you marry them for a conjugal life (adhering to chasteness and decency), and not for open lasciviousness (merely satisfying your lust), nor for secret love affairs. The one who denies faith (in the commandments of Allah), all his work is ruined, and he will (also) be amongst the losers in the Hereafter.

(al-Mā’idah, 5 : 5)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑ

6. اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤo

6. O believers! When you (intend to) stand for Prayer, then, (for ablution,) wash your faces and hands up to the elbows, and pass your wet hands over your heads and (also wash) your feet up to the ankles. And if you are in a state of obligation for total ablution, purify yourselves well (by bathing). Should you be ill or on a journey, or someone of you comes (after) defecation, or you have had sexual contact with women and then you do not find water, (in these cases,) perform tayammum with clean soil. So, it is wiping your faces and (full) hands with it (i.e., clean soil). Allah does not want to make things hard for you, but He wants to purify you, and complete the bestowal of His favour upon you so that you may become grateful.

(al-Mā’idah, 5 : 6)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤ

12. اور بیشک اﷲ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور (اس کی تعمیل، تنفیذ اور نگہبانی کے لئے) ہم نے ان میں بارہ سردار مقرر کئے، اور اﷲ نے (بنی اسرائیل سے) فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں (یعنی میری خصوصی مدد و نصرت تمہارے ساتھ رہے گی)، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور تم زکوٰۃ دیتے رہے اور میرے رسولوں پر (ہمیشہ) ایمان لاتے رہے اور ان (کے پیغمبرانہ مشن) کی مدد کرتے رہے اور اﷲ کو (اس کے دین کی حمایت و نصرت میں مال خرچ کرکے) قرضِ حسن دیتے رہے تو میں تم سے تمہارے گناہوں کو ضرور مٹا دوں گا اور تمہیں یقیناً ایسی جنتوں میں داخل کر دوں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ پھر اس کے بعد تم میں سے جس نے (بھی) کفر (یعنی عہد سے انحراف) کیا تو بیشک وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیاo

12. And indeed, Allah took a firm promise from the Children of Israel, and We appointed amongst them twelve chieftains (for its fulfilment, enforcement and protection). And Allah said (to the Children of Israel): ‘I am with you (i.e., My special support and reinforcement will escort you).’ If you establish Prayer and pay Zakat (the Alms-due) consistently, and (always) adhere to believing in My Messengers, and furnish persistent support to their (Prophetic Mission), and lend Allah a handsome loan (for the financial support, promotion and prevalence of His Din [Religion]), I will certainly remove your sins from you, and will assuredly admit you to the Gardens with streams flowing beneath. Then, later, whoever from amongst you rejects faith (i.e., violates the promise) indeed strays from the straight path.

(al-Mā’idah, 5 : 12)
Play Copy
ﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫ

13. پھر ان کی اپنی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی (یعنی وہ ہماری رحمت سے محروم ہوگئے)، اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا (یعنی وہ ہدایت اور اثر پذیری سے محروم ہوگئے، چنانچہ) وہ لوگ (کتابِ الٰہی کے) کلمات کو ان کے (صحیح) مقامات سے بدل دیتے ہیں اور اس (رہنمائی) کا ایک (بڑا) حصہ بھول گئے ہیں جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی، اور آپ ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے سوائے ان میں سے چند ایک کے (جو ایمان لا چکے ہیں) سو آپ انہیں معاف فرما دیجئے اور درگزر فرمائیے، بیشک اﷲ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہےo

13. Then We laid Our curse on them because of their breach of promise (i.e., they were deprived of Our mercy), and We made their hearts callous (i.e., they were deprived of guidance and susceptibility. So,) they change the Words (of Allah’s Book) from their (right) places, and have forgotten a (major) portion of that (guidance) which they were urged upon. And you will continue being informed about one or the other of their treachery, except a few of them (who have embraced faith). So pardon them and forbear. Indeed, Allah loves the benefactors.

(al-Mā’idah, 5 : 13)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴ

18. اور یہود اور نصارٰی نے کہا: ہم اﷲ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ آپ فرما دیجئے: (اگر تمہاری بات درست ہے) تو وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے؟ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) جن (مخلوقات) کو اﷲ نے پیدا کیا ہے تم (بھی) ان (ہی) میں سے بشر ہو (یعنی دیگر طبقاتِ انسانی ہی کی مانند ہو)، وہ جسے چاہے بخشش سے نوازتا ہے اور جسے چاہے عذاب سے دوچار کرتا ہے، اور آسمانوں اور زمین اور وہ (کائنات) جو دونوں کے درمیان ہے (سب) کی بادشاہی اﷲ ہی کے لئے ہے اور (ہر ایک کو) اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہےo

18. And the Jews and the Christians say: ‘We are the sons of Allah and His beloved ones.’ Say: ‘(If your statement is correct) then why does He punish you for your sins?’ Rather (the truth is that) from amongst all (the Creation) Allah has brought into being, you (too) are (but) human beings (i.e., just like other human species). He forgives whom He pleases and chastises whom He wills. And the sovereignty of the heavens, the earth and (the universe) that exists between them, (all) belongs to Allah alone and to Him (everyone) has to return.

(al-Mā’idah, 5 : 18)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺ

32. اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میں یہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد انگیزی (کی سزا) کے بغیر (ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقیناً زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیںo

32. On account of this, We prescribed (this commandment in the Torah sent down) to the Children of Israel that whoever killed a person (unjustly), except as a punishment for murder or for (spreading) disorder in the land, it would be as if he killed all the people (of society); and whoever (saved him from unjust murder and) made him survive, it would be as if he saved the lives of all the people (of society, i.e., he rescued the collective system of human life). And indeed, Our Messengers came to them with evident signs. Yet, even after that, the majority from amongst these people are certainly those who commit excesses in the land.

(al-Mā’idah, 5 : 32)
Play Copy
ﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟ

33. بیشک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خوں ریزی، رہزنی، ڈاکہ زنی، دہشت گردی اور قتلِ عام کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا پھانسی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہےo

33. Indeed, those who wage war against Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) and remain engaged in creating mischief in the land (i.e., perpetrate bloodshed, terrorism, robbery, burglary and massacre amongst Muslims), their punishment is that they should be slain, or hanged to death, or their hands and their feet on opposite sides should be cut off, or they should be exiled far from (i.e., deprived of moving about in) the homeland (i.e., either by banishment or by imprisonment). That is the humiliation for them in this world, and for them there is a terrible torment in the Hereafter (as well),

(al-Mā’idah, 5 : 33)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀ

41. اے رسول! وہ لوگ آپ کو رنجیدہ خاطر نہ کریں جو کفر میں تیزی (سے پیش قدمی) کرتے ہیں ان میں (ایک) وہ (منافق) ہیں جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور ان میں (دوسرے) یہودی ہیں، (یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے (آپ کو) خوب سنتے ہیں (یہ حقیقت میں) دوسرے لوگوں کے لئے (جاسوسی کی خاطر) سننے والے ہیں جو (ابھی تک) آپ کے پاس نہیں آئے، (یہ وہ لوگ ہیں) جو (اﷲ کے) کلمات کوان کے مواقع (مقرر ہونے) کے بعد (بھی) بدل دیتے ہیں (اور) کہتے ہیں: اگر تمہیں یہ (حکم جو ان کی پسند کا ہو) دیا جائے تو اسے اختیار کرلو اور اگر تمہیں یہ (حکم) نہ دیا جائے تو (اس سے) احتراز کرو، اور اﷲ جس شخص کی گمراہی کا ارادہ فرما لے تو تم اس کے لئے اﷲ (کے حکم کو روکنے) کا ہرگز کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنے کا اﷲ نے ارادہ (ہی) نہیں فرمایا۔ ان کے لئے دنیا میں (کفر کی) ذلّت ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہےo

41. O Messenger! Those who advance (fast) into disbelief should not grieve you. (Firstly) they include those (hypocrites) who utter from their mouths: ‘We believe,’ whilst their hearts have not accepted faith. (Secondly) amongst them are the Jews. They listen to (you) eagerly to fabricate lies. They (in fact) hear (to spy) for others who have not (yet) come to you. (They are the people) who change the Words (of Allah even) after their contexts (are fixed and) say: ‘If you are given this (command which they like), take it, and if you are not given this (command), then keep off (it).’ And if Allah adjudges someone to go astray, then you do not have any power for him (to hold up the command of) Allah. They are the ones whose hearts Allah has no intention whatsoever to purify. For them there is ignominy (of disbelief) in this world and mighty punishment in the Hereafter.

(al-Mā’idah, 5 : 41)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭ

44. بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا، اس کے مطابق انبیاء جو (اﷲ کے) فرمانبردار (بندے) تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے اور اﷲ والے (یعنی ان کے اولیاء) اور علماء (بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے)، اس وجہ سے کہ وہ اﷲ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر نگہبان (و گواہ) تھے۔ پس تم لوگوں سے مت ڈرو اور (صرف) مجھ سے ڈرا کرو اور میری آیات (یعنی احکام) کے بدلے (دنیا کی) حقیر قیمت نہ لیا کرو، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ کافر ہیںo

44. Indeed, We revealed the Torah wherein was guidance and light. In accordance with that the Messengers who were the obedient (servants of Allah) used to give orders to the Jews. And the divines (i.e., their spiritual masters) and the rabbis (also judged in accordance with that) because they were assigned to safeguard the Book of Allah and they were the guardians of (and witnesses to) it. So do not fear people and always fear Me (alone), and do not barter My signs (i.e., commands) for a paltry price (of this world). And he who does not judge (and rule) according to the injunctions sent down by Allah, it is they who are the disbelievers.

(al-Mā’idah, 5 : 44)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙ

48. اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھےo

48. And, (O Most Esteemed Messenger,) We have revealed the Book to you (also) with the truth which confirms the Book that preceded it and stands as a guardian over (the actual commands and contents contained in) it. So judge between them according to these (commandments) which Allah has revealed. And do not follow their desires turning away from the truth that has come to you. We have designed for each one of you a discrete law and an all-embracing way of life. Had Allah so willed, He would have made you all one Umma ([Community] agreeing to the same law). But He wants to test you in these (separately given sets of commandments) which He has given you (suiting your respective life situations). So, make haste in doing pious works. To Allah have you all to return. He will then enlighten you on (the truth and falsehood in all the matters in) which you used to disagree.

(al-Mā’idah, 5 : 48)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇﰈﰉﰊﰋﰌﰍﰎﰏﰐﰑﰒﰓﰔﰕﰖﰗﰘﰙ

64. اور یہود کہتے ہیں کہ اﷲ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (یعنی معاذ اﷲ وہ بخیل ہے)، ان کے (اپنے) ہاتھ باندھے جائیں اور جو کچھ انہوں نے کہا اس کے باعث ان پر لعنت کی گئی، بلکہ (حق یہ ہے کہ) اس کے دونوں ہاتھ (جود و سخا کے لئے) کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ (یعنی بندوں پر عطائیں) فرماتا ہے، اور (اے حبیب!) جو (کتاب) آپ کی طرف آپ کے ربّ کی جانب سے نازل کی گئی ہے یقیناً ان میں سے اکثر لوگوں کو (حسداً) سر کشی اور کفر میں اور بڑھا دے گی، اور ہم نے ان کے درمیان روزِ قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا ہے، جب بھی یہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اﷲ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ (روئے) زمین میں فساد انگیزی کرتے رہتے ہیں، اور اﷲ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتاo

64. And the Jews say: ‘Allah’s hand is tied up (as if—God forbid!—He is miserly).’ Tied up be their (own) hands, and they have been cursed for what they have uttered! (The truth is that) both His hands are stretched out wide open (in showering His bounties and blessings). He spends (i.e., bestows His blessings on His servants) as He desires. And, (O Beloved,) that (Book) which has been revealed to you from your Lord will certainly increase most of them in rebellion and disbelief (due to jealousy). And We have put among them hostility and spite till the Day of Resurrection. Whenever these people kindle the fire of war, Allah puts it out. And they are engaged in spreading mischief and disorder (everywhere) on the earth, and Allah does not like those who spread mischief.

(al-Mā’idah, 5 : 64)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅ

89. اللہ تمہاری بے مقصد (اور غیر سنجیدہ) قَسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمہاری ان (سنجیدہ) قَسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم (ارادی طور پر) مضبوط کرلو، (اگر تم ایسی قَسم کو توڑ ڈالو) تو اس کا کفّارہ دس مسکینوں کو اوسط (درجہ کا) کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی کو) آزاد کرنا ہے، پھر جسے (یہ سب کچھ) میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قَسموں کا کفّارہ ہے جب تم کھالو (اور پھر توڑ بیٹھو)، اور اپنی قَسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں خوب واضح فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے احکام کی اطاعت کر کے) شکر گزار بن جاؤo

89. Allah does not persecute you for your purposeless (and frivolous) oaths, but takes you to task for your (solemn) oaths which you affirm (deliberately). (If you breach such oaths) the atonement is feeding ten poor persons with an average (quality) food which you serve to your family, or providing them (the poor) with the clothes, or freeing one neck (i.e., a slave). But the one who does not find (all this) shall fast for three days. This is the atonement for your oaths which you affirm (and then break). So, always guard your oaths. It is this way Allah explains most clearly His Revelations to you so that you may become grateful (by obeying His commandments).

(al-Mā’idah, 5 : 89)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟ

93. ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اس (حرام) میں کوئی گناہ نہیں جو وہ (حکمِ حرمت اترنے سے پہلے) کھا پی چکے ہیں جب کہ وہ (بقیہ معاملات میں) بچتے رہے اور (دیگر اَحکامِ اِلٰہی پر) ایمان لائے اور اَعمالِ صالحہ پر عمل پیرا رہے، پھر (اَحکامِ حرمت کے آجانے کے بعد بھی ان سب حرام اَشیاء سے پرہیز کرتے رہے اور (اُن کی حرمت پر صدقِ دل سے ایمان لائے، پھر صاحبانِ تقویٰ ہوئے اور (بالآخر) صاحبانِ اِحسان (یعنی اﷲ کے خاص محبوب و مقرب و نیکوکار بندے) بن گئے، اور اﷲ اِحسان والوں سے محبت فرماتا ہےo

93. There is no sin on those who believe and do righteous deeds with regard to what they have eaten (of the unlawful things before the prohibition came), whereas (in all other matters) they were Godwary and put firm faith (in other commandments of Allah), and practised pious deeds consistently. Later, (also after the revelation of the prohibitions,) they desisted from (all the unlawful things) and believed (true-heartedly in their unlawfulness), became men of piety and Godwariness, and (finally) rose to the station of men of spiritual excellence (i.e., Allah’s beloved, favourite, intimate and righteous servants). And Allah loves those who live with spiritual excellence.

(al-Mā’idah, 5 : 93)
Play Copy
Play Copy
ﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇﰈﰉﰊﰋﰌﰍﰎﰏﰐ

95. اے ایمان والو! تم احرام کی حالت میں شکار کو مت مارا کرو، اور تم میں سے جس نے (بحالتِ احرام) قصداً اسے مار ڈالا تو (اس کا) بدلہ مویشیوں میں سے اسی کے برابر (کوئی جانور) ہے جسے اس نے قتل کیا ہے جس کی نسبت تم میں سے دو عادل شخص فیصلہ کریں (کہ واقعی یہ جانور اس شکار کے برابر ہے بشرطیکہ) وہ قربانی کعبہ پہنچنے والی ہو یا (اس کا) کفّارہ چند محتاجوں کا کھانا ہے (یعنی جانور کی قیمت کے برابر معمول کا کھانا جتنے بھی محتاجوں کو پورا آجائے) یا اس کے برابر (یعنی جتنے محتاجوں کا کھانا بنے اس قدر) روزے ہیں تاکہ وہ اپنے کیے (کے بوجھ) کا مزہ چکھے۔ جو کچھ (اس سے) پہلے ہو گزرا اللہ نے اسے معاف فرما دیا، اور جو کوئی (ایسا کام) دوبارہ کرے گا تو اللہ اس سے (نافرمانی) کا بدلہ لے لے گا، اور اللہ بڑا غالب بدلہ لینے والا ہےo

95. O believers! Do not kill game whilst you are in pilgrim attire (ihram). Whoever of you (pilgrim-clad) kills it intentionally will recompense (it) in kind of cattle equivalent to the one he has killed. In this regard, two men of probity out of you are to judge (whether this animal is really the game’s equal, provided) that offering is to be brought to the Ka‘ba. Or its atonement is feeding a few indigent persons (i.e., usual food for the number of poor people manageable in the animal’s cost), or fasting corresponding to that (number of days manageable within the same food meant for the poor,) so that he tastes (the gravity of) his offence. Allah has forgiven whatever has gone by earlier (to it), but whoever repeats (a similar act) Allah will avenge (his defiance). And Allah is Mighty, the Lord of Retribution.

(al-Mā’idah, 5 : 95)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗ

106. اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت آئے تو وصیت کرتے وقت تمہارے درمیان گواہی (کے لئے) تم میں سے دو عادل شخص ہوں یا تمہارے غیروں میں سے (کوئی) دوسرے دو شخص ہوں اگر تم ملک میں سفر کر رہے ہو پھر (اسی حال میں) تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے تو تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو، اگر تمہیں (ان پر) شک گزرے تو وہ دونوں اللہ کی قَسمیں کھائیں کہ ہم اس کے عوض کوئی قیمت حاصل نہیں کریں گے خواہ کوئی (کتنا ہی) قرابت دار ہو اور نہ ہم اللہ کی (مقرر کردہ) گواہی کو چھپائیں گے (اگر چھپائیں تو) ہم اسی وقت گناہگاروں میں ہو جائیں گےo

106. O believers! When death approaches any one of you, then at the time of making a bequest there should be two men of probity from amongst you (for) taking testimony, or (any) two men from amongst others if you are travelling in the land. If (in the meanwhile) the agony of death overtakes you, detain both of them after Prayer. If you suspect (them), they shall both swear by Allah: ‘We shall not sell it for any price, even though one is a (very close) relative, nor shall we conceal the testimony (ordained) by Allah. (If we hide it,) we shall be amongst sinners there and then.’

(al-Mā’idah, 5 : 106)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨ

110. جب اللہ فرمائے گا: اے عیسٰی ابن مریم! تم اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر میرا احسان یاد کرو جب میں نے پاک روح (جبرائیل) کے ذریعے تمہیں تقویت بخشی، تم گہوارے میں (بعہدِ طفولیت) اور پختہ عمری میں (بعہدِ تبلیغ و رسالت یکساں انداز سے) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے، اور جب میں نے تمہیں کتاب اور حکمت (و دانائی) اور تورات اور انجیل سکھائی، اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتے تھے پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی، اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں (یعنی برص زدہ مریضوں) کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے، اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو (زندہ کر کے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تمہارے (قتل) سے روک دیا تھا جب کہ تم ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو ان میں سے کافروں نے (یہ) کہہ دیا کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیںo

110. When Allah will say: ‘O ‘Isa, the son of Maryam (Jesus, the son of Mary), call to mind My favour to you and your mother when I provided you strength through the Holy Spirit (Gabriel); you conversed with the people (in a uniform style both) from the cradle (during early childhood) and in the ripe age (whilst preaching as a Messenger); and when I taught you the Book and wisdom (and insight) and the Torah and the Injil (the Gospel); and when by My command you made out of clay some (figure) looking like a bird, then you would breathe into it and by My command it would become a bird; and when you healed the blind and the leper (i.e., victims of leprosy) by My command; and when you raised up the dead (standing, bringing them back to life from the grave) by My command; and when I held back the Children of Israel from (killing) you whilst you brought them clear signs, those who disbelieved amongst them said: ‘This is nothing but sheer magic.’

(al-Mā’idah, 5 : 110)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy