Play Copy
ﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞ

27. (اے نبی مکرم!) آپ ان لوگوں کو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں (ہابیل و قابیل) کی خبر سنائیں جو بالکل سچی ہے۔ جب دونوں نے (اﷲ کے حضور ایک ایک) قربانی پیش کی سو ان میں سے ایک (ہابیل) کی قبول کر لی گئی اور دوسرے (قابیل) سے قبول نہ کی گئی تو اس (قابیل) نے (ہابیل سے حسداً و انتقاماً) کہا: میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا، اس (ہابیل) نے (جواباً) کہا: بیشک اﷲ پرہیزگاروں سے ہی (نیاز) قبول فرماتا ہےo

27. (O Most Esteemed Messenger!) Relate to these people the account of the two sons of Adam (Habil and Qabil [Abel and Cain]) which is absolutely true. When both of them made offering (one each to Allah), the offering from one of them (Habil [Abel]) was accepted, whilst that from the other (Qabil [Cain]) was not accepted. Thereupon, he (Qabil) said to Habil (out of jealousy and vengeance): ‘I will surely kill you.’ He (Habil) said (in reply): ‘Indeed, Allah accepts (offering) only from the people of piety.

(al-Mā’idah, 5 : 27)