Surah Muhammad

Irfan Ul Quran
  • MedinanSurah
  • 47By Tilawat
  • 95By Reveal
  • 4Ruku
  • 38Ayats
  • 26Part No
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪ

4. پھر جب (میدان جنگ میں) تمہارا مقابلہ (متحارب) کافروں سے ہو تو (دورانِ جنگ) ان کی گردنیں اڑا دو (کیونکہ انہوں نے انسانیت کا قتل عام کیا اور فساد انگیزی کے ذریعے امن برباد کیا)، یہاں تک کہ جب تم انہیں (جنگی معرکہ میں) خوب قتل کر چکو تو (بقیہ قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ لو، پھر اس کے بعد یا تو (انہیں) احسان کرتے ہوئے (بلا معاوضہ چھوڑ دو) یا فدیہ (یعنی معاوضۂ رہائی) لے کر (آزاد کر دو) یہاں تک کہ جنگ (کرنے والی مخالف فوج) اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی صلح و امن کا اعلان کر دے)۔ یہی (حکم) ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو ان سے (بغیر جنگ) انتقام لے لیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے، اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے تو وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گاo

4. So when you are to fight (for the elimination of militancy and terrorism) against the (warring) disbelievers (in the battlefield), strike their necks (whilst fighting because they slaughtered harmless human lives and destroyed peace by their terrorist activities) till, when you have killed a good many of them (in the battle), then tie (the remaining prisoners) tightly. Thereafter, either set (them) free (without ransom) as a favour or (free them) for ransom (i.e., cost of freedom) till the warring (hostile army) lays down its weapons (i.e., announces the truce). That is (the command). And if Allah had willed, He would have avenged Himself on them (without war). But (He did not do so) in order to try some of you by means of others. And as for those who are slain in the way of Allah, He will not at all make their actions fruitless.

(Muhammad, 47 : 4)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖ

15. جس جنّت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی (بو یا رنگت کا) تغیّر نہ آئے گا، اور (اس میں ایسے) دودھ کی نہریں ہوں گی جس کا ذائقہ اور مزہ کبھی نہ بدلے گا، اور (ایسے) شرابِ (طہور) کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہے، اور خوب صاف کئے ہوئے شہد کی نہریں ہوں گی، اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی جانب سے (ہر طرح کی) بخشائش ہوگی، (کیا یہ پرہیزگار) ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے گاo

15. A feature of the Paradise which is promised to the Godfearing is that therein are streams of (such) water as will never putrefy (in smell or colour), and (in it) will be streams of milk whose taste and flavour will never change, and streams of (such a pure) wine that is an absolute delight for all who drink it and streams of purified honey; and (in it) will be fruits of every kind (for them) and forgiveness (of every sort) from their Lord. Can this (pious man) be like those who are permanent residents of Hell and who will be given scalding water to drink which will cut their gut into pieces?

(Muhammad, 47 : 15)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﰊﰋﰌﰍﰎﰏﰐﰑﰒﰓﰔﰕﰖﰗﰘﰙ

19. پس جان لیجیے کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ امت کی خاطر ﷲ سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے (اپنی شان اقدس اور خصوصی عظمت و رِفعت کے تناظر میں) خلافِ اَولیٰ فعل صادر نہ ہو جائے* اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی طلبِ مغفرت (یعنی ان کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی ان کا سامان بخشش ہے)، اور (اے لوگو!) ﷲ (دنیا میں) تمہارے چلنے پھرنے کے ٹھکانے اور (آخرت میں) تمہارے ٹھہرنے کی منزلیں (سب) جانتا ہےo

٭ (حالانکہ وہ فعل اپنی جگہ شرعاً بالکل جائز بلکہ مستحسن ہو گا مگر آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ اور عظمت و رِفعت محض جواز اور استحسان کے مراتب سے بھی بہت بلند اور اَرفع و اَعلیٰ ہے)

19. Know then that there is no God except Allah and (to offer worship and to educate the Umma [Community]) always ask forgiveness (from Allah) lest (in the perspective of your glory, majesty and exaltation peculiar to you alone) an action unworthy of your incomparable station may transpire.* And also seek forgiveness (i.e., intercede) for the believing men and women (for that is all they may have in balance for forgiveness). And, (O people,) Allah knows (all about) the places where you move about (in the world) and your mansions of repose (in the Hereafter).

* Given that the action may be a pious deed compatible with Islamic law, rather an act par excellence, your august station, majesty and exaltation is far elevated and dignified than mere permissibility and higher grades of moral excellence.

(Muhammad, 47 : 19)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾ

32. بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت (اور ان سے جدائی کی راہ اختیار) کی اس کے بعد کہ ان پر ہدایت (یعنی عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت) واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کا ہرگز کچھ نقصان نہیں کر سکیں گے (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت کو گھٹا نہیں سکیں گے)،٭ اور اﷲ ان کے (سارے) اعمال کو (مخالفتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باعث) نیست و نابود کر دے گاo

٭ تمام ائمہ تفسیر نے لکھا ہے: (لَن يَضُرُوا اللّہَ شَيْئًا) أی: لن یضرّوا رسولَ اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بمشاقتہ و حذف المضاف لتعظیم شانہ۔ ملاحظہ فرمائیں: الطبری، البیضاوی، روح المعانی، روح البیان، الجمل، البحر المدید وغیرہ۔ اس اُسلوبِ کلام کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں جن میں سے ایک سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 9 (یُخٰدِعُوْنَ اﷲَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) ہے۔ اس مقام پر یخٰدعون اﷲ (وہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) کہہ کر مراد یُخٰدِعُونَ رَسُولَ اﷲِ (وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) لیا گیا ہے۔

32. Indeed, those who disbelieved and hindered (the people) from the way of Allah and opposed the Messenger (blessings and peace be upon him), (and chose the path of breaking away from him,) after the guidance (i.e., the gnosis of the veneration of the Holy Messenger [blessings and peace be upon him]) had become clear to them, they would not be able to harm Allah anyway (i.e., would not be able to decrease the incomparable superiority and pre-eminence of the Messenger* [blessings and peace be upon him]). Allah will wreck (all) their works (due to their opposition to the Holy Messenger [blessings and peace be upon him]).

* According to the leading exegetes like al-Tabari, al-Baydawi, al-Alusi, al-Haqqi, al-Jumal, Ibn ‘Ujayba, etc., there are many examples of this style of exposition in the Holy Qur’an such as verse 9 of Sura al-Baqara. Here the words, ‘They want to deceive Allah’ imply: ‘They want to deceive the Holy Messenger (blessings and peace be upon him).’

(Muhammad, 47 : 32)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy