Play Copy
ﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾ

32. بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت (اور ان سے جدائی کی راہ اختیار) کی اس کے بعد کہ ان پر ہدایت (یعنی عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت) واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کا ہرگز کچھ نقصان نہیں کر سکیں گے (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت کو گھٹا نہیں سکیں گے)،٭ اور اﷲ ان کے (سارے) اعمال کو (مخالفتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باعث) نیست و نابود کر دے گاo

٭ تمام ائمہ تفسیر نے لکھا ہے: (لَن يَضُرُوا اللّہَ شَيْئًا) أی: لن یضرّوا رسولَ اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بمشاقتہ و حذف المضاف لتعظیم شانہ۔ ملاحظہ فرمائیں: الطبری، البیضاوی، روح المعانی، روح البیان، الجمل، البحر المدید وغیرہ۔ اس اُسلوبِ کلام کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں جن میں سے ایک سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 9 (یُخٰدِعُوْنَ اﷲَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) ہے۔ اس مقام پر یخٰدعون اﷲ (وہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) کہہ کر مراد یُخٰدِعُونَ رَسُولَ اﷲِ (وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) لیا گیا ہے۔

32. Indeed, those who disbelieved and hindered (the people) from the way of Allah and opposed the Messenger (blessings and peace be upon him), (and chose the path of breaking away from him,) after the guidance (i.e., the gnosis of the veneration of the Holy Messenger [blessings and peace be upon him]) had become clear to them, they would not be able to harm Allah anyway (i.e., would not be able to decrease the incomparable superiority and pre-eminence of the Messenger* [blessings and peace be upon him]). Allah will wreck (all) their works (due to their opposition to the Holy Messenger [blessings and peace be upon him]).

* According to the leading exegetes like al-Tabari, al-Baydawi, al-Alusi, al-Haqqi, al-Jumal, Ibn ‘Ujayba, etc., there are many examples of this style of exposition in the Holy Qur’an such as verse 9 of Sura al-Baqara. Here the words, ‘They want to deceive Allah’ imply: ‘They want to deceive the Holy Messenger (blessings and peace be upon him).’

(Muhammad, 47 : 32)