Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲ

31. پس جب اس (زلیخا) نے ان کی مکارانہ باتیں سنیں (تو) انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے مجلس آراستہ کی (پھر ان کے سامنے پھل رکھ دیئے) اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دے دی اور (یوسف علیہ السلام سے) درخواست کی کہ ذرا ان کے سامنے سے (ہوکر) نکل جاؤ (تاکہ انہیں بھی میری کیفیت کا سبب معلوم ہو جائے)، سو جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام کے حسنِ زیبا) کو دیکھا تو اس (کے جلوۂ جمال) کی بڑائی کرنے لگیں اور وہ (مدہوشی کے عالم میں پھل کاٹنے کے بجائے) اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور (دیکھ لینے کے بعد بے ساختہ) بول اٹھیں: اﷲ کی پناہ! یہ تو بشر نہیں ہے، یہ تو بس کوئی برگزیدہ فرشتہ (یعنی عالمِ بالا سے اترا ہوا نور کا پیکر) ہےo

31. So when she (Zulaykha) heard their deceitful talk, she sent for them and arranged a meeting for them. (She placed fruit before them) and gave each one of them a knife and requested (Yusuf): ‘Walk out before them (so that they may realize the cause of my state of mind).’ So, when they glanced at Yusuf (Joseph and) saw (his dazzling beauty), they began to exalt (the charm of his ecstatic beauty) and (in a dazed state) cut their hands (instead of the fruits served to them). And (having seen him) they exclaimed (spontaneously): ‘God save us! This is not a human being; he must be some exalted angel (i.e., an embodiment of light descending from the transcendent realm of divinity)!’

(Yūsuf, 12 : 31)