irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran
Ayat of the Day: And have the disbelievers not seen that the whole heavenly universe and the earth were (all) joined together as one unit and then We split them apart? And We originated (the life of) living organism (on earth) from water. So do they not accept faith (even after learning these facts brought forth by the Qur’an)? (al-Ambiyā’, 21:30)
irfan-ul-quran irfan-ul-quran
 
Irfan-ul-Quran: - al-Kahf (the Cave

Sura al-Kahf

(the Cave)
Sura : Makki by Tilawat : 18 by Reveal : 69 Ruku` : 12 Ayats : 110 Part No. : 15, 16
In the Name of Allah, Most Compassionate, Ever-Merciful
1. تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے اپنے (محبوب و مقرّب) بندے پر کتابِ (عظیم) نازل فرمائی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھیo
1. All praise belongs to Allah, Who revealed the (Glorious) Book to His (Most Beloved and Intimate) Servant, and left not in it any crookedness.
2. (اسے) سیدھا اور معتدل (بنایا) تاکہ وہ (منکرین کو) اﷲ کی طرف سے (آنے والے) شدید عذاب سے ڈرائے اور مومنین کو جو نیک اعمال کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لئے بہتر اجر (جنت) ہےo
2. (He made it) straight and moderate so that he might warn (the disbelievers) of fierce torment (coming) from Allah, and give good news to the believers who do pious deeds that for them is excellent reward (Paradise),
3. جس میں وہ ہمیشہ رہیں گےo
3. Wherein they will live forever,
4. اور (نیز) ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اﷲ نے (اپنے لئے) لڑکا بنا رکھا ہےo
4. And (moreover) create fear in those who say that Allah has taken a son (for Himself).
5. نہ اس کا کوئی علم انہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا، (یہ) کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے، وہ (سراسر) جھوٹ کے سوا کچھ کہتے ہی نہیںo
5. Neither have they any knowledge of it, nor had their fathers. How dreadful is (this) utterance that is coming out of their mouths! They speak nothing but (sheer) falsehood.
6. (اے حبیبِ مکرّم!) تو کیا آپ ان کے پیچھے شدتِ غم میں اپنی جانِ (عزیز بھی) گھلا دیں گے اگر وہ اس کلامِ (ربّانی) پر ایمان نہ لائےo
6. (O Venerable Beloved!) Will you put your (dear) life at stake with the traumatic grief for them if they do not put faith in this Word (of Allah)?
7. اور بیشک ہم نے اُن تمام چیزوں کو جو زمین پر ہیں اس کے لئے باعثِ زینت (و آرائش) بنایا تاکہ ہم ان لوگوں کو (جو زمین کے باسی ہیں) آزمائیں کہ ان میں سے بہ اِعتبارِ عمل کون بہتر ہےo
7. And indeed, We have made whatever is on earth a means of its beauty (and adornment) so that We test (the inhabitants of the earth) as to who is better in deeds.
8. اور بیشک ہم اِن (تمام) چیزوں کو جو اس (روئے زمین) پر ہیں (نابود کر کے) بنجر میدان بنا دینے والے ہیںo
8. And, surely, We shall reduce it to a barren land (perishing all) that is on (the surface of the earth).
9. کیا آپ نے یہ خیال کیا ہے کہ کہف و رقیم (یعنی غار اور لوحِ غار یا وادئ رقیم) والے ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں سے (کتنی) عجیب نشانی تھے؟o
9. Have you thought of it (how) wondrous a sign of the signs (of Our might) were the People of the Kahf and the Raqim (i.e., the People of Cave and the Cave Tablet or the Raqim valley)?
10. (وہ وقت یاد کیجئے) جب چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے تو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں راہ یابی (کے اسباب) مہیا فرماo
10. (Call to mind the time) when a few youths took refuge in the cave. They said: ‘O our Lord, bestow upon us mercy from Your presence and provide (means of) guidance in our affair.’
11. پس ہم نے اس غار میں گنتی کے چند سال ان کے کانوں پر تھپکی دے کر (انہیں سلا دیا)o
11. So We patted their ears (putting them to slumber) for some countable years in that cave.
12. پھر ہم نے انہیں اٹھا دیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون اس (مدّت) کو صحیح شمار کرنے والا ہے جو وہ (غار میں) ٹھہرے رہےo
12. Then We raised them up to see which of the two groups would most rightly calculate (the time) that they stayed (in the cave).
13. (اب) ہم آپ کو ان کا حال صحیح صحیح سناتے ہیں، بیشک وہ (چند) نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے لئے (نورِ) ہدایت میں اور اضافہ فرما دیاo
13. We (now) narrate to you their actual state of affairs. They were indeed (a few) young men who believed in their Lord, and We increased for them (the light of) guidance.
14. اور ہم نے ان کے دلوں کو (اپنے ربط و نسبت سے) مضبوط و مستحکم فرما دیا، جب وہ (اپنے بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے: ہمارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گےo
14. And We strengthened and stabilized their hearts (through Our communication and divine affinity). When they stood (before their king), they said: ‘Our Lord is the Lord of the heavens and the earth. We shall never worship any (false) god besides Him. (If we do that,) then we shall certainly say something profane.
15. یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اس کے سوا کئی معبود بنا لئے ہیں، تو یہ ان (کے معبود ہونے) پر کوئی واضح سند کیوں نہیں لاتے؟ سو اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہےo
15. These are the people of our community who have made many gods apart from Him. Why do they not bring any clear proof (in support of their godhood)? So, who is a greater wrongdoer than he who fabricates a lie against Allah?’
16. اور (ان نوجوانوں نے آپس میں کہا:) جب تم ان سے اور ان (جھوٹے معبودوں) سے جنہیں یہ اﷲ کے سوا پوجتے ہیں کنارہ کش ہو گئے ہو تو تم (اس) غار میں پناہ لے لو، تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت کشادہ فرما دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا فرما دے گاo
16. And (those young men mutually discussed:) ‘When you have withdrawn yourselves from them, and those (false gods) which they worship other than Allah, take shelter in (this) cave. Your Lord will open up His mercy for you and will facilitate you in your affair.’
17. اور آپ دیکھتے ہیں جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب ہٹ جاتا ہے اور جب غروب ہونے لگتا ہے تو ان سے بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وہ اس غار کے کشادہ میدان میں (لیٹے) ہیں، یہ (سورج کا اپنے راستے کو بدل لینا) اﷲ کی (قدرت کی بڑی) نشانیوں میں سے ہے، جسے اﷲ ہدایت فرما دے سو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ اس کے لئے کوئی ولی مرشد (یعنی راہ دکھانے والا مددگار) نہیں پائیں گےo
17. And you see that the sun, when it rises, moves to the right from their cave, and inclines obliquely from them to the left when it sets, whilst they are (lying) in the open chamber of the cave. This (change of the sun’s course) is one of the (great) signs of Allah’s (might). He whom Allah guides is the one who is rightly guided, but the one whom He holds strayed, you will not find for him any wali (friend to help) and murshid (guide to show the path).
18. اور (اے سننے والے!) تو انہیں (دیکھے تو) بیدار خیال کرے گا حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم (وقفوں کے ساتھ) انہیں دائیں جانب اور بائیں جانب کروٹیں بدلاتے رہتے ہیں، اور ان کا کتا (ان کی) چوکھٹ پر اپنے دونوں بازو پھیلائے (بیٹھا) ہے، اگر تو انہیں جھانک کر دیکھ لیتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا اور تیرے دل میں ان کی دہشت بھر جاتیo
18. And, (O listener,) if you (look) at them, you will deem them awake, whereas they are asleep. And We keep changing their sides to the right and to the left (after regular intervals), and their dog is sitting on (their) threshold sprawling both its forelegs. Had you glanced at them (secretly), you would have run away, turning your back on them, and your heart would have been filled with their terror.
19. اور اسی طرح ہم نے انہیں اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں دریافت کریں، (چنانچہ) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم (یہاں) کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم (یہاں) ایک دن یا اس کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، (بالآخر) کہنے لگے: تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم (یہاں) کتنا عرصہ ٹھہرے ہو، سو تم اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو پھر وہ دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ حلال اور پاکیزہ ہے تو اس میں سے کچھ کھانا تمہارے پاس لے آئے اور اسے چاہئے کہ (آنے جانے اور خریدنے میں) آہستگی اور نرمی سے کام لے اور کسی ایک شخص کو (بھی) تمہاری خبر نہ ہونے دےo
19. And likewise, We raised them up so that they could probe amongst themselves. (So) the vocal one amongst them said: ‘How long have you stayed (here)?’ They said: ‘We have tarried (here) for a day or (even) a part of that.’ (Winding it up, they) said: ‘Your Lord knows best how long you have stayed (here). So send someone of you to the city with this coin of yours. He should then find which food is more lawful and clean and bring you some of that. He should remain slow and polite (in going, buying and coming back), not leaving any clue about you (even) to a single person.
20. بیشک اگر انہوں نے تم (سے آگاہ ہو کر تم) پر دسترس پالی تو تمہیں سنگسار کر ڈالیں گے یا تمہیں (جبرًا) اپنے مذہب میں پلٹا لیں گے اور (اگر ایسا ہو گیا تو) تب تم ہرگز کبھی بھی فلاح نہیں پاؤ گےo
20. Surely, if they overpower you (after becoming aware of you), they will stone you to death, or force you (through oppression) to return to their faith. And, (if it so happens,) then you will not prosper at all.
21. اور اس طرح ہم نے ان (کے حال) پر ان لوگوں کو (جو چند صدیاں بعد کے تھے) مطلع کردیا تاکہ وہ جان لیں کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے اور یہ (بھی) کہ قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جب وہ (بستی والے) آپس میں ان کے معاملہ میں جھگڑا کرنے لگے (جب اصحابِ کہف وفات پاگئے) تو انہوں نے کہا کہ ان (کے غار) پر ایک عمارت (بطور یادگار) بنا دو، ان کا رب ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، ان (ایمان والوں) نے کہا جنہیں ان کے معاملہ پر غلبہ حاصل تھا کہ ہم ان (کے دروازہ) پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے (تاکہ مسلمان اس میں نماز پڑھیں اور ان کی قربت سے خصوصی برکت حاصل کریں)o
21. And in this way, We unveiled their (state) to those (who succeeded them some centuries later) so that they might know that Allah’s promise is true, and (also) that there is no doubt about the coming of the Last Hour. (When these people of the cave died) and the people of the town disputed concerning their matter, they said: ‘Raise a building over their (cave as a monument). Their Lord knows best their state of (saintly) affairs.’ Those (believers) who had the upper hand in their matter said: ‘We shall certainly build a mosque (at their door so that the believers may pray therein, and acquire special bounty by obtaining spiritual nearness to the people of the cave).’
22. (اب) کچھ لوگ کہیں گے: (اصحابِ کہف) تین تھے ان میں سے چوتھا ان کا کتا تھا، اور بعض کہیں گے: پانچ تھے ان میں سے چھٹا ان کا کتا تھا، یہ بِن دیکھے اندازے ہیں، اور بعض کہیں گے: (وہ) سات تھے اور ان میں سے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ فرما دیجئے: میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے اور سوائے چند لوگوں کے ان (کی صحیح تعداد) کا علم کسی کو نہیں، سو آپ کسی سے ان کے بارے میں بحث نہ کیا کریں سوائے اس قدر وضاحت کے جو ظاہر ہو چکی ہے اور نہ ان میں سے کسی سے ان (اصحابِ کہف) کے بارے میں کچھ دریافت کریںo
22. (Now) some will say: ‘(The people of the cave) were three and the fourth was their dog,’ and still some will say: ‘(They) were five and the sixth was their dog.’ These are the estimations made without seeing. And others will say: ‘(They) were seven and the eighth was their dog.’ Say: ‘My Lord is the One Who exactly knows their number and none knows their (exact number) except a few.’ So do not discuss about them with anyone except the details that have been revealed. Nor seek any information from any of them (about the People of the Cave).
23. اورکسی بھی چیز کی نسبت یہ ہرگز نہ کہا کریں کہ میں اس کام کو کل کرنے والا ہوںo
23. And never say about anything: ‘I shall do this tomorrow.’
24. مگر یہ کہ اگر اﷲ چاہے (یعنی اِن شاء اﷲ کہہ کر) اور اپنے رب کا ذکر کیا کریں جب آپ بھول جائیں اور کہیں: امید ہے میرا رب مجھے اس سے (بھی) قریب تر ہدایت کی راہ دکھا دے گاo
24. But that: ‘If Allah so wills (i.e., saying: In sha Allah).’ And remember your Lord when you forget and say: ‘I believe my Lord will show me the path of guidance which is (even) nearer than this one.’
25. اور وہ (اصحابِ کہف) اپنی غار میں تین سو برس ٹھہرے رہے اور انہوں نے (اس پر) نو (سال) اور بڑھا دیئےo
25. And (the People of the Cave [Kahf]) stayed in their cave for three hundred years and they added another (nine) years (to that).
26. فرما دیجئے: اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت (وہاں) ٹھہرے رہے، آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں اسی کے علم میں ہیں، کیا خوب دیکھنے والا اور کیاخوب سننے والا ہے، اس کے سوا ان کا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک فرماتا ہےo
26. Say: ‘Allah is the One Who knows best for how long they remained (there).’ He alone knows (all) the secrets of the heavens and the earth. How well He sees and how well He hears! They have no protector besides Him, nor does He share His sovereignty with anyone.
27. اور آپ وہ (کلام) پڑھ کر سنائیں جو آپ کے رب کی کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، اس کے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گےo
27. And recite that (Revelation) which has been revealed to you from the Book of your Lord. There is none who can change His Word, nor will you find any place of refuge except in Him.
28. (اے میرے بندے!) تو اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں (اس کی دید کے متمنی اور اس کا مکھڑا تکنے کے آرزو مند ہیں) تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں ان سے نہ ہٹیں، کیا تو (ان فقیروں سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے، اور تو اس شخص کی اطاعت (بھی) نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے گزر گیا ہےo
28. (O My servant!) Stay tenaciously in the companionship of those who remember their Lord morning and evening, ardently seeking His pleasure, (keen on the glimpse of His sight, and eagerly aspiring to glance at His radiant Countenance). Your (affectionate and caring) looks must not but focus them. Do you seek the charisma of the worldly life (shifting your attention away from these self-denying devotees)? And (also) do not follow him whose heart We have made neglectful of Our remembrance, and who follows but the urge of his (ill-commanding self) and his case has exceeded all bounds.
29. اور فرما دیجئے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے (دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر وہ (پیاس اور تکلیف کے باعث) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا، کتنا برا مشروب ہے، اور کتنی بری آرام گاہ ہےo
29. And say: ‘(This) truth is from your Lord. So whoever desires may believe and whoever desires may deny.’ Indeed, We have prepared for the wrongdoers the Fire (of Hell) whose walls will surround them. And if (due to thirst and distress) they cry, they will be helped with water like molten copper which will scald their faces. How dreadful a drink and how terrible a resting place!
30. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یقیناً ہم اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جو نیک عمل کرتا ہےo
30. Indeed, those who believe and do pious deeds, We certainly do not waste the reward of the one who does pious deeds.
31. ان لوگوں کے لئے ہمیشہ (آباد) رہنے والے باغات ہیں (جن میں) ان (کے محلات) کے نیچے نہریں جاری ہیں انہیں ان جنتوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور بھاری اطلس کے (ریشمی) سبز لباس پہنیں گے اور پر تکلف تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، کیا خوب ثواب ہے اور کتنی حسین آرام گاہ ہےo
31. For them there are (everlasting) Gardens with streams flowing under their (palaces). They will be adorned with bracelets of gold in these Gardens, and they will wear green attires of fine brocade and heavy silk. And there they will recline upon raised and richly adorned thrones. What an excellent reward and how beautiful a resting place!
32. اور آپ ان سے ان دو شخصوں کی مثال بیان کریں جن میں سے ایک کے لئے ہم نے انگور کے دو باغات بنائے اور ہم نے ان دونوں کو تمام اَطراف سے کھجور کے درختوں کے ساتھ ڈھانپ دیا اور ہم نے ان کے درمیان (سرسبز و شاداب) کھیتیاں اگا دیںo
32. And relate to them the example of two men, one of whom We provided with two gardens of grapevines, and We hedged both from all sides with date-palms, and We grew between them (rich green) cultivated fields.
33. یہ دونوں باغ (کثرت سے) اپنے پھل لائے اور ان کی (پیداوار) میں کوئی کمی نہ رہی اور ہم نے ان دونوں (میں سے ہر ایک) کے درمیان ایک نہر (بھی) جاری کر دیo
33. Both these gardens yielded (abundant) fruits, and their (produce) did not fall short of the mark. And We (also) made one stream flow in the middle of (each of) the two.
34. اور اس شخص کے پاس (اس کے سوا بھی) بہت سے پھل (یعنی وسائل) تھے، تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا اور وہ اس سے تبادلہ خیال کر رہا تھا کہ میں تجھ سے مال و دولت میں کہیں زیادہ ہوں اور قبیلہ و خاندان کے لحاظ سے (بھی) زیادہ باعزت ہوںo
34. And this man had (also besides this) abundant fruits (i.e., resources). Whilst exchanging views with his companion, he said to him: ‘I am far more affluent than you and (also) more honourable with regard to family and tribal strength.’
35. اور وہ (اسے لے کر) اپنے باغ میں داخل ہوا (تکبّر کی صورت میں) اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے کہنے لگا: میں یہ گمان (ہی) نہیں کرتا کہ یہ باغ تباہ ہوگاo
35. And (taking him along) he entered his garden. Doing wrong to his soul (by way of arrogance), he said: ‘I do not (even) imagine that this garden will perish.
36. اور نہ ہی یہ گمان کرتا ہوں کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بھی یقیناً میں ان باغات سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گاo
36. Nor do I entertain the idea that the Last Hour will take place. And if (supposedly) I am returned to my Lord, even then I shall certainly get a place to return better than these gardens.’
37. اس کے ساتھی نے اس سے کہا اور وہ اس سے تبادلہء خیال کر رہا تھا: کیا تو نے اس (رب) کا انکار کیا ہے جس نے تجھے (اوّلاً) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک تولیدی قطرہ سے پھر تجھے (جسمانی طور پر) پورا مرد بنا دیا؟o
37. His companion, whilst exchanging views with him, said to him: ‘Have you denied (the Lord) Who has created you (first) from clay, and then from a drop of vital fluid, and then accomplished you (physically) into a full-grown man?
38. لیکن میں (تو یہ کہتا ہوں) کہ وہی اﷲ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں گردانتاo
38. But (this is what) I say: Allah alone is my Lord, and I do not associate any partner with my Lord.
39. اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے کیوں نہیں کہا: ”ما شاء اﷲ لا قوۃ اِلا باﷲ“ (وہی ہونا ہے جو اﷲ چاہے کسی کو کچھ طاقت نہیں مگر اﷲ کی مدد سے)، اگر تو (اِس وقت) مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم تر دیکھتا ہے (تو کیا ہوا)o
39. And why did you not say when you entered your garden: It happens exactly as Allah wills. No one owns any power but with the help of Allah (Ma sha Allah, la quwwata illa bi-llah)? If (today) you find me inferior to you in wealth and riches (then what!)
40. کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (باغ) پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے پھر وہ چٹیل چکنی زمین بن جائےo
40. It is not far from possible that my Lord may give me a garden better than yours, and send from heaven some torment upon this (garden) turning it into a barren, slippery piece of land.
41. یا اس کا پانی زمین کی گہرائی میں چلا جائے پھر تو اسے حاصل کرنے کی طاقت بھی نہ پا سکےo
41. Or its water may sink so deep into the earth that it gets beyond your means to fetch.’
42. اور (اس تکبّر کے باعث) اس کے (سارے) پھل (تباہی میں) گھیر لئے گئے تو صبح کو وہ اس پونجی پر جو اس نے اس (باغ کے لگانے) میں خرچ کی تھی کفِ افسوس ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا اور وہ (سراپا حسرت و یاس بن کر) کہہ رہا تھا: ہائے کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا (اور اپنے اوپر گھمنڈ نہ کیا ہوتا)o
42. And (because of his arrogance) all his fruits were besieged (with destruction), and in the morning he was but wringing his hands with grief bewailing all that wealth, which he had invested (in raising this garden). And the garden had fallen down on its trellises, and he (the embodiment of despair and despondence) said: ‘Would that I had not attributed peers to Allah (and had not employed self-conceit)!’
43. اور اس کے لئے کوئی گروہ (بھی) ایسا نہ تھا جو اﷲ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود (ہی اس تباہی کا) بدلہ لینے کے قابل تھاo
43. And there was (also) no party for him to come to his help against Allah, nor was he himself able to avenge (this destruction).
44. یہاں (پتہ چلتا ہے) کہ سب اختیار اﷲ ہی کا ہے (جو) حق ہے، وہی بہتر ہے انعام دینے میں اور وہی بہتر ہے انجام کرنے میںo
44. (Here it becomes evident) that all authority belongs to Allah alone (Who is) the truth. He is the best to reward and the best to end.
45. اور آپ انہیں دنیوی زندگی کی مثال (بھی) بیان کیجئے (جو) اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان کی طرف سے اتارا تو اس کے باعث زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا پھر وہ سوکھی گھاس کا چورا بن گیا جسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں، اور اﷲ ہر چیز پر کامل قدرت والا ہےo
45. And explain to them the example of the worldly life (as well): it is like water that We pour from the sky. With this the vegetation of the earth grows thick, but then it becomes dry stubble which the winds blow about, and Allah has perfect control over everything.
46. مال اور اولاد (تو صرف) دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور (حقیقت میں) باقی رہنے والی (تو) نیکیاں (ہیں جو) آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے (بھی) بہتر ہیں اور آرزو کے لحاظ سے (بھی) خوب تر ہیںo
46. Wealth and children are (mere) adornment of the worldly life, but the things that (actually) endure (are) the good deeds (which) are best in the sight of your Lord as for reward and (also) most valuable as regards hope.
47. وہ دن (قیامت کا) ہوگا جب ہم پہاڑوں کو (ریزہ ریزہ کر کے فضا میں) چلائیں گے اور آپ زمین کو صاف میدان دیکھیں گے (اس پر شجر، حجر اور حیوانات و نباتات میں سے کچھ بھی نہ ہوگا) اور ہم سب انسانوں کو جمع فرمائیں گے اور ان میں سے کسی کو (بھی) نہیں چھوڑیں گےo
47. And that will be the Day (of Resurrection) when We shall move the mountains (in the atmosphere, broken to dust particles,) and you will see the earth as a clear plain (void of plantation, stones, animals and vegetation). And We shall gather together the whole of mankind, and shall not leave out any of them.
48. اور (سب لوگ) آپ کے رب کے حضور قطار در قطار پیش کئے جائیں گے، (ان سے کہا جائے گا:) بیشک تم ہمارے پاس (آج اسی طرح) آئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا بلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ ہم تمہارے لئے ہرگز وعدہ کا وقت مقرر ہی نہیں کریں گےo
48. And (all) mankind will be presented to your Lord standing in rows. (It will be said to them:) ‘Indeed, you have come to Us (Today the way) We created you for the first time. In fact, you thought that We would never appoint for you the Hour of Promise.’
49. اور (ہر ایک کے سامنے) اَعمال نامہ رکھ دیا جائے گا سو آپ مجرموں کو دیکھیں گے (وہ) ان (گناہوں اور جرموں) سے خوفزدہ ہوں گے جو اس (اَعمال نامہ) میں درج ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہلاکت! اس اَعمال نامہ کو کیا ہوا ہے اس نے نہ کوئی چھوٹی (بات) چھوڑی ہے اور نہ کوئی بڑی (بات)، مگر اس نے (ہر ہر بات کو) شمار کر لیا ہے اور وہ جو کچھ کرتے رہے تھے (اپنے سامنے) حاضر پائیں گے، اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ فرمائے گاo
49. And the record of deeds will be placed (before everyone). So, you will see the evildoers terrified at the (sins, wrongs and offences) registered (in the record). And they will say: ‘Oh, woe to us! What is the matter with this record that it has left out neither any insignificant (wrong) nor any big (blunder)? It has rather taken into account (each and every act).’ And they will find (before them) whatever they used to do, and your Lord will not do injustice to anyone.
50. اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم آدم (علیہ السلام) کو سجدۂ (تعظیم) کرو سو ان (سب) نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ (ابلیس) جنّات میں سے تھا تو وہ اپنے رب کی طاعت سے باہر نکل گیا، کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بنا رہے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، یہ ظالموں کے لئے کیا ہی برا بدل ہے (جو انہوں نے میری جگہ منتخب کیا ہے)o
50. And (recall) when We said to the angels: ‘Prostrate yourselves before Adam (in veneration).’ So they all prostrated themselves except Iblis. He (Iblis) was of the jinn, and he walked out of the obedience to his Lord. Are you taking him and his offspring for friends leaving Me, whereas, in truth, they are your enemies? How evil a substitute the evildoers (have opted in My place)!
51. میں نے نہ (تو) انہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر (معاونت یا گواہی کے لئے) بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق (کے وقت)، اور نہ (ہی) میں ایسا تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو (اپنا) دست و بازو بناتاo
51. I called them neither (for assistance or witness) on the creation of the heavens and the earth, nor (at the time of) their own creation. Nor was it My Glory to take the inciters of misguidance as (My) supporters.
52. اور اُس دن (کو یاد کرو جب) اﷲ فرمائے گا: انہیں پکارو جنہیں تم میرا شریک گمان کرتے تھے، سو وہ انہیں بلائیں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان (ایک وادئ جہنم کو) ہلاکت کی جگہ بنا دیں گےo
52. And (remember) the Day (when) Allah will say: ‘Call those that you deemed to be My peers.’ So they will call them, but they will not give them any answer, and We shall place between them (a valley of Hell), the site of destruction.
53. اور مجرم لوگ آتشِ دوزخ کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ وہ یقیناً اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے گریز کی کوئی جگہ نہ پاسکیں گےo
53. And the evildoers will see the Fire of Hell, and realize that certainly they are about to fall into it. And they will not be able to find any means to escape from it.
54. اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال کو (انداز بدل بدل کر) بار بار بیان کیا ہے، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہےo
54. And We have indeed put forth in the Qur’an repeatedly for mankind every kind of example (alternating the styles), but man is far ahead in contention than anything else.
55. اور لوگوں کو جبکہ ان کے پاس ہدایت آچکی تھی کسی نے (اس بات سے) منع نہیں کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں اور اپنے رب سے مغفرت طلب کریں سوائے اس (انتظار) کے کہ انہیں اگلے لوگوں کا طریقہ (ہلاکت) پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آجائےo
55. And nothing prevented the people from embracing faith and imploring forgiveness from their Lord, whilst guidance had reached them, except (waiting for) the pattern of the ancients’ (destruction) occurring to them, or that the torment should come in front of them.
56. اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجا کرتے مگر (لوگوں کو) خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے (بنا کر)، اور کافر لوگ (ان رسولوں سے) بیہودہ باتوں کے سہارے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس (باطل) کے ذریعہ حق کو زائل کردیں اور وہ میری آیتوں کو اور اس (عذاب) کو جس سے وہ ڈرائے جاتے ہیں ہنسی مذاق بنا لیتے ہیںo
56. And We do not send Messengers but as Bearers of glad tidings (to the people) and as Warners. And the disbelievers dispute with (these Messengers) taking leverage of false arguments so as to eliminate the truth with (falsehood). And they scoff at My Revelations, and (the torment) of which they are warned.
57. اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی نشانیاں یاد دلائی گئیں تو اس نے ان سے رُوگردانی کی اور ان (بداَعمالیوں) کو بھول گیا جو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس حق کو سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیا ہے (کہ وہ اس حق کو سن نہ سکیں)، اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ کبھی بھی قطعًا ہدایت نہیں پائیں گےo
57. And who is a greater wrongdoer than one who was reminded of the signs of Allah, but he turned away from them and forgot those (evil deeds) which his hands had sent forward? Verily, We have cast veils over their hearts so that they may (not) understand this truth, and have plugged their ears with heaviness (so that they may not hear this truth). And if you invite them towards guidance, never ever will they take guidance.
58. اور آپ کا رب بڑا بخشنے والا صاحبِ رحمت ہے، اگر وہ ان کے کئے پر ان کا مؤاخذہ فرماتا تو ان پر یقیناً جلد عذاب بھیجتا، بلکہ ان کے لئے (تو) وقتِ وعدہ (مقرر) ہے (جب وہ وقت آئے گا تو) اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گےo
58. And your Lord is Most Forgiving, Full of Mercy. If He had to take them to task for their doings, He would certainly send the torment upon them quickly. And in truth, the Hour of Promise is (appointed) for them. (When that time comes,) they will not find any place of shelter except with Him.
59. اور یہ بستیاں ہیں ہم نے جن کے رہنے والوں کو ہلاک کر ڈالا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا تھاo
59. And these are the towns whose inhabitants We destroyed when they perpetrated oppression and injustice. And We had fixed a time for their destruction.
60. اور (وہ واقعہ بھی یاد کیجئے) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے (جواں سال ساتھی اور) خادم (یوشع بن نون علیہ السلام) سے کہا: میں (پیچھے) نہیں ہٹ سکتا یہاں تک کہ میں دو دریاؤں کے سنگم کی جگہ تک پہنچ جاؤں یا مدتوں چلتا رہوںo
60. And (also call to mind the incident) when Musa (Moses) said to his (young companion and) disciple (Yusha‘ b. Nun [Joshua, the son of Nun]): ‘I will not step (back) until I arrive at the junction of the two seas, or I travel on infinitely.’
61. سو جب وہ دونوں دو دریاؤں کے درمیان سنگم پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی (وہیں) بھول گئے پس وہ (تلی ہوئی مچھلی زندہ ہوکر) دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بناتے ہوئے نکل گئیo
61. So when both of them reached the junction of the two seas, they forgot their fish (there). So, that (fried fish came back to life, and) made its way into the sea like a tunnel and slipped off.
62. پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے (تو) موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا کھانا ہمارے پاس لاؤ بیشک ہم نے اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا کیا ہےo
62. Then, when both of them had gone ahead, Musa (Moses) asked his disciple: ‘Bring us our meal. Surely, we have faced great hardship during this journey of ours.’
63. (خادم نے) کہا: کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں (وہاں) مچھلی بھول گیا تھا، اور مجھے یہ کسی نے نہیں بھلایا سوائے شیطان کے کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں، اور اس (مچھلی) نے تو (زندہ ہوکر) دریا میں عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنا لیا تھا (اور وہ غائب ہو گئی تھی)o
63. (The disciple) said: ‘Did you see when we reposed beside the rock? I forgot the fish (there), and none but Satan made me forget to mention it to you. And that fish (after coming back to life) made its way into the sea in a strange way (and it disappeared).’
64. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: یہی وہ (مقام) ہے ہم جسے تلاش کر رہے تھے، پس دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر (وہی راستہ) تلاش کرتے ہوئے (اسی مقام پر) واپس پلٹ آئےo
64. Musa (Moses) said: ‘That is the place we were looking for.’ So both returned to (the same place), tracing the (same path), following their footsteps.
65. تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر علیہ السلام) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے علم لدنی (یعنی اسرار و معارف کا الہامی علم) سکھایا تھاo
65. Then both found (there) one of Our (elite) servants (Khidr) upon whom We had bestowed from Our Presence (special) mercy and had taught him infused knowledge (i.e., the inspired knowledge of secrets and gnosis).
66. اس سے موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ اس (شرط) پر رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے (بھی) اس علم میں سے کچھ سکھائیں گے جو آپ کو بغرضِ ارشاد سکھایا گیا ہےo
66. Musa (Moses) said to him: ‘Can I stay with you under this (condition) that you will teach me (as well) some of that knowledge, which has been conferred on you for guidance?’
67. اس (یعنی خضر علیہ السلام) نے کہا: بیشک آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گےo
67. He (Khidr) said: ‘No doubt, you will not be able to have patience being in my company.
68. اور آپ اس (بات) پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جسے آپ (پورے طور پر) اپنے احاطہء علم میں نہیں لائے ہوں گےo
68. And how can you observe patience in (the matter of) which you will not have acquired (thorough) knowledge?’
69. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: آپ اِن شاء اﷲ مجھے ضرور صابر پائیں گے اور میں آپ کی کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کروں گاo
69. Musa (Moses) said: ‘You will certainly find me patient, if Allah so pleases, and I will not violate any of your instructions.’
70. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: پس اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ سے اس کا ذکر کردوںo
70. (Khidr) said: ‘So if you are in my company, then do not question me about anything until I myself mention that to you.’
71. پس دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے (تو خضر علیہ السلام نے) اس (کشتی) میں شگاف کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے اسے اس لئے (شگاف کر کے) پھاڑ ڈالا ہے کہ آپ کشتی والوں کو غرق کردیں، بیشک آپ نے بڑی عجیب بات کیo
71. So both of them set out till, when they embarked on a boat, (Khidr) bored a hole in it. Musa (Moses) said: ‘Have you bored (a hole in) it to drown the people aboard? Surely, you have done something strange.’
72. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکیں گےo
72. (Khidr) said: ‘Did I not tell you that you would not be able to restrain yourself in my company?’
73. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: آپ میری بھول پر میری گرفت نہ کریں اور میرے (اس) معاملہ میں مجھے زیادہ مشکل میں نہ ڈالیںo
73. Musa (Moses) said: ‘Call me not to account for my omission, and put me not in any more difficulty in (this) affair of mine.’
74. پھر وہ دونوں چل دیئے یہاں تک کہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر ڈالا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے بے گناہ جان کو بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے قتل کر دیا ہے، بیشک آپ نے بڑا ہی سخت کام کیا ہےo
74. Then both of them proceeded till they met a boy. (Khidr) killed him. Musa (Moses) said: ‘Have you killed a harmless soul without any (retribution due) for anyone killed? Indeed, you have done a horrible thing!’
75. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گےo
75. (Khidr) said: ‘Did I not tell you that you would never be able to keep patience in my company?’
76. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کی نسبت سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا، بیشک میری طرف سے آپ حدِ عذر کو پہنچ گئے ہیںo
76. Musa (Moses) said: ‘If I ask you about anything after this, then do not keep me with you. Indeed, in my opinion, you have reached the limit to excuse.’
77. پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب دونوں ایک بستی والوں کے پاس آپہنچے، دونوں نے وہاں کے باشندوں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان دونوں کی میزبانی کرنے سے انکار کر دیا، پھر دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی تو (خضر علیہ السلام نے) اسے سیدھا کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس (تعمیر) پر مزدوری لے لیتےo
77. Then both set off, until they reached the people of a town; both asked its residents for food but they refused to entertain them. Then they found there a wall, which was about to fall. (Khidr) erected it. Musa (Moses) said: ‘If you desired, you could take wages for this (construction work).’
78. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا وقت) ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کئے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکےo
78. (Khidr) said: ‘This is the parting (time) between me and you. Now I shall impart to you the truth of the matters about which you have not been able to keep patience.
79. وہ جو کشتی تھی سو وہ چند غریب لوگوں کی تھی وہ دریا میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور (اس کی وجہ یہ تھی کہ) ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ (کھڑا) تھا جو ہر (بے عیب) کشتی کو زبردستی (مالکوں سے بلامعاوضہ) چھین رہا تھاo
79. As for the boat, that belonged to some poor people who used to toil for wages on the river. So I decided to make it defective (because) a (cruel) king was (standing) ahead of them, snatching every (undamaged) boat by force (from the owners without any compensation).
80. اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (اگر زندہ رہا تو کافر بنے گا اور) ان دونوں کو (بڑا ہو کر) سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گاo
80. And as for the boy, his parents were blessed with faith. So we feared that (if he lived on, he would become a disbeliever, and on attaining to maturity) he would afflict both of them with disobedience and disbelief.
81. پس ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا رب انہیں (ایسا) بدل عطا فرمائے جو پاکیزگی میں (بھی) اس (لڑکے) سے بہتر ہو اور شفقت و رحم دلی میں (بھی والدین سے) قریب تر ہوo
81. So we intended that their Lord might bless them with (such) a substitute as would be better than this (boy) in purity and nearer (to his parents as well) in clemency and kindness.
82. اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں (رہنے والے) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لئے ایک خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ صالح (شخص) تھا، سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں، اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) وہ اَز خود نہیں کیا، یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکےo
82. And as for the wall, that belonged to two orphan boys (residing) in the town. And a treasure was (buried) beneath it for both of them. And their father was (a) pious (man). So your Lord willed that both of them should reach their age of maturity, and dig out their treasure (themselves) by mercy from your Lord. And I did not do (whatever I did) of my own accord. This is the truth (of the matters) about which you could not hold yourself.’
83. اور (اے حبیبِ معظّم!) یہ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: میں ابھی تمہیں اس کے حال کا تذکرہ پڑھ کر سناتا ہوںo
83. And, (O Most Esteemed Beloved,) they ask you about Dhu al-Qarnayn. Say: ‘I recite to you an account of him now.’
84. بیشک ہم نے اسے (زمانۂ قدیم میں) زمین پر اقتدار بخشا تھا اور ہم نے اس (کی سلطنت) کو تمام وسائل و اسباب سے نوازا تھاo
84. (In ancient times) We did grant him power in the land and blessed (his rule) with all the means and resources.
85. پھر وہ ایک (اور) راستے پر چل پڑاo
85. Then he took another way,
86. یہاں تک کہ وہ غروبِ آفتاب (کی سمت آبادی) کے آخری کنارے پر جا پہنچا وہاں اس نے سورج کے غروب کے منظر کو ایسے محسوس کیا جیسے وہ (کیچڑ کی طرح سیاہ رنگ) پانی کے گرم چشمہ میں ڈوب رہا ہو اور اس نے وہاں ایک قوم کو (آباد) پایا۔ ہم نے فرمایا: اے ذوالقرنین! (یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے) خواہ تم انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ اچھا سلوک کروo
86. Until he reached the boundary of (a locality towards) the west where he perceived the setting of the sun as if going down into a spring of (muddy black) hot water, and he found a people (living) there. We said: ‘O Dhu al-Qarnayn, (it is up to you) whether you punish them or treat them nicely.’
87. ذوالقرنین نے کہا: جو شخص (کفر و فسق کی صورت میں) ظلم کرے گا تو ہم اسے ضرور سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا، پھر وہ اسے بہت ہی سخت عذاب دے گاo
87. Dhu al-Qarnayn said: ‘Whoever perpetrates injustice (by way of disbelief and mischief-mongering), we will certainly punish him. He will then be brought back to his Lord. And then He will award him most grievous punishment.
88. اور جو شخص ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لئے بہتر جزا ہے اور ہم (بھی) اس کے لئے اپنے احکام میں آسان بات کہیں گےo
88. And whoever believes and does pious acts will have better reward, and We shall (also) say for him in Our commands what is lenient.’
89. (مغرب میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد) پھر وہ (دوسرے) راستہ پر چل پڑاo
89. Then (after consolidating his conquests in the west) he set forth on (another) course,
90. یہاں تک کہ وہ طلوعِ آفتاب (کی سمت آبادی) کے آخری کنارے پر جا پہنچا، وہاں اس نے سورج (کے طلوع کے منظر) کو ایسے محسوس کیا (جیسے) سورج (زمین کے اس خطہ پر آباد) ایک قوم پر اُبھر رہا ہو جس کے لئے ہم نے سورج سے (بچاؤ کی خاطر) کوئی حجاب تک نہیں بنایا تھا (یعنی وہ لوگ بغیر لباس اور مکان کے غاروں میں رہتے تھے)o
90. Until he reached the boundary (of a locality in the direction) of the sunrise. There he perceived (the rising of) the sun (as if) it were rising on the people (living in that piece of land) for whom We had provided no cover (for protection) against the sun (i.e., they lived in the caves, without clothes and houses).
91. واقعہ اسی طرح ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم نے اپنے علم سے اس کا احاطہ کر لیا ہےo
91. It occurred the same way. And We have encompassed with Our knowledge whatever he had.
92. (مشرق میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد) پھر وہ (ایک اور) راستہ پر چل پڑاo
92. (Having accomplished his conquests in the east,) he then followed (still another) route,
93. یہاں تک کہ وہ (ایک مقام پر) دو پہاڑوں کے درمیان جا پہنچا اس نے ان پہاڑوں کے پیچھے ایک ایسی قوم کو آباد پایا جو (کسی کی) بات نہیں سمجھ سکتے تھےo
93. Until he reached (a place) between two mountains. He found a people dwelling behind these mountains. They were unable to understand (anyone’s) speech.
94. انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج اور ماجوج نے زمین میں فساد بپا کر رکھا ہے تو کیا ہم آپ کے لئے اس (شرط) پر کچھ مالِ (خراج) مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بلند دیوار بنا دیںo
94. They said: ‘O Dhu al-Qarnayn! Gog and Magog have spread disorder in the land. Should we fix some money (as a tribute) for you on this (condition) that you raise a high wall between us and them?’
95. (ذوالقرنین نے) کہا: مجھے میرے رب نے اس بارے میں جو اختیار دیا ہے (وہ) بہتر ہے، تم اپنے زورِ بازو (یعنی محنت و مشقت) سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گاo
95. (Dhu al-Qarnayn) said: ‘The power my Lord has given me in this connection is better. Assist me with your vigour (diligence and labour), and I shall erect a fortified wall between you and them.
96. تم مجھے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دو، یہاں تک کہ جب اس نے (وہ لوہے کی دیوار پہاڑوں کی) دونوں چوٹیوں کے درمیان برابر کر دی تو کہنے لگا: (اب آگ لگا کر اسے) دھونکو، یہاں تک کہ جب اس نے اس (لوہے) کو (دھونک دھونک کر) آگ بنا ڈالا تو کہنے لگا: میرے پاس لاؤ (اب) میں اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈالوں گاo
96. Bring me large blocks of iron.’ So, when he levelled (that iron wall) between the two (mountain) tops, he said: ‘(Now) blow (it after putting it on fire).’ So, when he turned that (iron) into a fire (by successive blowing), he said: ‘(Now) bring me molten copper to pour on it.’
97. پھر ان (یاجوج اور ماجوج) میں نہ اتنی طاقت تھی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ اتنی قدرت پا سکے کہ اس میں سوراخ کر دیںo
97. Then they (Gog and Magog) did not have the ability to scale it, nor could they acquire the capability to bore through it.
98. (ذوالقرنین نے) کہا: یہ میرے رب کی جانب سے رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدۂ (قیامت قریب) آئے گا تو وہ اس دیوار کو (گرا کر) ہموار کردے گا (دیوار ریزہ ریزہ ہوجائے گی)، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہےo
98. (Dhu al-Qarnayn) said: ‘This is mercy from my Lord. But when my Lord’s promise (of the Last Hour) comes (near), He will (demolish this wall and) level it with the ground (i.e., it will be reduced to dust particles). And the promise of my Lord is bound to come true.’
99. اور ہم اس وقت (جملہ مخلوقات یا یاجوج اور ماجوج کو) آزاد کر دیں گے وہ (تیز و تند موجوں کی طرح) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو (میدانِ حشر میں) جمع کرلیں گےo
99. And at that time, We shall release (all the creation or Gog and Magog). They will run into each other (like surging waves). And the trumpet will be blown. Then We shall gather them all (in the Last Day Assembly).
100. اور ہم اس دن دوزخ کو کافروں کے سامنے بالکل عیاں کر کے پیش کریں گےo
100. And on that Day, We shall present Hell before the disbelievers fully exposed,
101. وہ لوگ جن کی آنکھیں میری یاد سے حجابِ (غفلت) میں تھیں اور وہ (میرا ذکر) سن بھی نہ سکتے تھےo
101. Those whose eyes were veiled (by negligence) against My remembrance and they could not even listen (to My remembrance).
102. کیا کافر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کار ساز بنا لیں گے، بیشک ہم نے کافروں کے لئے جہنم کی میزبانی کو تیار کر رکھا ہےo
102. Do the disbelievers think that, instead of Me, they will take My servants as helpers? Surely, We have prepared Hell as hospitality for the disbelievers.
103. فرما دیجئے: کیا ہم تمہیں ایسے لوگوں سے خبردار کر دیں جو اعمال کے حساب سے سخت خسارہ پانے والے ہیںo
103. Say: ‘Shall We alert you to those who are great losers in respect of deeds?
104. یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری جد و جہد دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہوگئی اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے کام انجام دے رہے ہیںo
104. It is those whose entire struggle is wasted in worldly life, but they presume they are doing good works.’
105. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور (مرنے کے بعد) اس سے ملاقات کا انکار کردیا ہے سو ان کے سارے اعمال اکارت گئے پس ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی وزن اور حیثیت (ہی) قائم نہیں کریں گےo
105. It is they who have denied the signs of their Lord and meeting Him (after death). So all their deeds are ruined, and We shall not give any weight or (even) any worth to them on the Day of Rising.
106. یہی دوزخ ہی ان کی جزا ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے رہے اور میری نشانیوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہےo
106. This very Hell is their reward because they kept disbelieving and mocking My signs and My Messengers.
107. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہوگیo
107. Surely, those who believe and do good deeds persistently shall have the Gardens of Paradise as their hospitality.
108. وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے (اپنا ٹھکانا) کبھی بدلنا نہ چاہیں گےo
108. They will always live there. They will never seek any change (of abode) from there.
109. فرما دیجئے: اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی ہوجائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کی مثل اور (سمندر یا روشنائی) مدد کے لئے لے آئیںo
109. Say: ‘If the ocean turns into ink for the Words of my Lord, that ocean will exhaust before the Words of my Lord come to an end, even if We bring another similar (ocean or ink) to refill.’
110. فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے! ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے (بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلامِ الٰہی اتر سکے) وہ یہ کہ تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہی ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرےo
110. Say: ‘I look like you only (by virtue of my visible creation) as a man. (Otherwise just think what congruity you have with me.) It is I to whom the Revelation is transmitted that your God is the One and only God. (And just see to it whether you have any such divine potential that the Word of Allah may come down to you.) So, whoever hopes to meet his Lord should do good deeds, and must not associate any partner in the worship of his Lord.’
Previous Sura     Index     Next Sura
Read Quran | Listen to Quran | Search Quran | Download Quran | Buy Quran
Comments | The Translator | Site Map | Privacy Policy | Urdu version | Download Fonts
Minhaj-ul-Quran | Welfare | Overseas | Multimedia | Books | Durood | Magazines | Publications
irfan-ul-quran irfan-ul-quran
Developed By : Minhaj Internet Bureau, Lahore PK
elearning Minhaj-ul-Quran