محاسن عرفان القرآن

اِختصاراً

’’عرفان القران‘‘ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ترجمہ ہے جو کئی جہات سے دیگر تراجم قرآن کے مقابلہ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس کی درج ذیل خصوصیات اسے دیگر تراجم پر فوقیت دیتی ہیں:

  1. ہر ذہنی سطح کے لیے یکساں قابل فہم اور منفرد اسلوب بیان کا حامل ہے، جس میں بامحاورہ زبان کی سلاست اور روانی ہے۔
  2. ترجمہ ہونے کے باوجود تفسیری شان کا حامل ہے اور آیات کے مفاہیم کی وضاحت جاننے کے لیے قاری کو تفسیری حوالوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
  3. یہ نہ صرف فہم قرآن میں معاون بنتا ہے بلکہ قاری کے ایقان میں اضافہ کا سامان بھی ہے۔
  4. یہ تاثیر آمیز بھی ہے اور عمل انگیز بھی۔
  5. حبی کیفیت سے سرشار ادب الوہیت اور ادب بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا شاہکار ہے جس میں حفظ آداب و مراتب کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔
  6. یہ اعتقادی صحت و ایمانی معارف کا مرقع ہے۔
  7. تجدیدی اہمیت کا حامل دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ترین اردو ترجمہ ہے، جس میں جدید سائنسی تحقیقات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
  8. یہ علمی ثقاہت و فکری معنویت سے لبریز ایسا شاہکار ہے، جس میں عقلی تفکر و عملیت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔
  9. روحانی حلاوت و قلبی تذکر کا مظہر ہے۔
  10. اس میں نہ صرف قرآنی جغرافیہ کا بیان ہے بلکہ سابقہ اقوام کا تاریخی پس منظر بھی مذکور ہیں۔
  11. مغربی دنیا کو قرآن حکیم کے حقیقی پیغام کے ابلاغ کے لیے ضروری تھا کہ قرآن حکیم کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا جاتا۔ الحمدللہ! یہ امر نہایت مسرت افزا ہے کہ اس کا انگریزی ترجمہ قرآن بھی مکمل ہوچکا ہے۔

مضامین

  1. عرفان القرآن میں احترام رسالت کا التزام (شیخ الحدیث علامہ محمد معراج الاسلام)
  2. عرفان القرآن : تراجمِ قرآن میں ایک نایاب اور اچھوتا اضافہ (ڈاکٹر ظہور اَحمد اَظہر)
  3. عرفان القرآن اور جدید سائنسی علوم: دیگر تراجم کیساتھ ایک تقابلی مطالعہ (شیخ عبدالعزیز دباغ)

عرفان القرآن تراجم میں منفرد کیسے؟

 

عرفان القرآن کیوں لکھا گیا؟

تبصرہ