تعارف عرفان القرآن

عرفان القرآن ایک نظر میں

  1. ادبِ اُلوہیت اور ادبِ بارگاہِ نبوی
  2. حفظِ آداب و مراتب
  3. حبّی کیفیت
  4. اِعتقادی صحت و ایمانی معارِف
  5. تفسیری تقاضوں سے ہم آہنگ
  6. دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ترین اُردو ترجمہ
  7. تجدیدی اہمیت کا حامل
  8. ہر ذہنی سطح کے لئے یکساں قابلِ فہم
  9. سلاست، روانی اور بامحاورہ زبان
  10. اُسلوبِ بیان کی عمدگی و ندرت
  11. علمی ثقاہت و فکری معنویت
  12. عقلی تفکر و عملیت کا پہلو
  13. سائنسی تحقق اور نظری جدت
  14. روحانی حلاوت و قلبی تذکر کا مظہر
  15. قرآنی جغرافیہ کا بیان
  16. سابقہ اقوام کے تاریخی پس منظر کا بیان

شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے قلم سے مؤرّخہ 20 جولائی 2005ء کو تکمیل پذیر ہونے والا ”عرفان القران“ اپنی نوعیت میں قرآن مجید کا ایک منفرد ترجمہ ہے، جو کئی جہات سے دیگر تراجمِ قر آن کی نسبت نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اِس کی درج ذیل خصوصیات اسے دیگر تراجم پر فوقیت دیتی ہیں:

  • ہر ذہنی سطح کے لیے یکساں قابلِ فہم اور منفرد اُسلوبِ بیان کا حامل ہے، جس میں بامحاورہ زبان کی سلاست اور روانی ہے۔
  • ترجمہ ہونے کے باوجود تفسیری شان کا حامل ہےاور آیات کے مفاہیم کی وضاحت جاننے کے لیے قاری کو تفسیری حوالوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
  • یہ نہ صرف فہمِ قر آن میں معاون بنتا ہے بلکہ قاری کے ایقان میں اضافہ کا سامان بھی ہے۔
  • یہ تاثیر آمیز بھی ہےاور عمل انگیز بھی۔
  • حبّی کیفیت سے سرشار اَدبِ اُلوہیت اور ادبِ بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا شاہکار ہے جس میں حفظِ آداب و مراتب کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔
  • یہ اِعتقادی صحت و ایمانی معارِف کا مرقع ہے۔
  • تجدیدی اہمیت کا حامل دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ترین اُردو ترجمہ ہے، جس میں جدید سائنسی تحقیقات کو مدِنظر رکھا گیاہے۔
  • یہ علمی ثقاہت و فکری معنویت سے لبریز ایسا شاہکار ہے، جس میں عقلی تفکر و عملیت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔
  • روحانی حلاوت و قلبی تذکر کا مظہر ہے۔
  • اِس میں نہ صرف قر آنی جغرافیہ کا بیان ہے بلکہ سابقہ اقوام کا تاریخی پس منظر بھی مذکور ہے۔

قر آن حکیم کی تفسیر جو عصری مسائل اور ضروریات کی تکمیل کر سکے جدید دور کی اہم ترین دینی ضرورت ہے اس رمضان المبارک سے اس کی تحریر کا آغاز ہو چکا ہے اور انشاءاللہ العزیز 4 سال میں مکمل ہو جائےگی۔ اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کے طفیل حضرت شیخ الاسلام کو اس کی تکمیل کے لئے صحت و طاقت کی خصوصی نوازش سے نواز دے تاکہ وہ امت کو یہ قیمتی اثاثہ بھی دے سکیں۔

تبصرہ