Play Copy
ﰁﰂﰃﰄﰅ

30. (اے حبیبِ مکرّم!) بے شک آپ کو (تو) موت (صرف ذائقہ چکھنے کے لئے) آنی ہے اور وہ یقیناً (دائمی ہلاکت کے لئے) مردہ ہو جائیں گے (پھر دونوں موتوں کا فرق دیکھنے والا ہوگا)۔٭o

٭جس طرح آیت : 29 میں دی گئی مثال کے مطابق دو افراد کے اَحوال قطعاً برابر نہیں ہوں گے اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور دوسروں کی موت بھی ہرگز برابر یا مماثل نہیں ہوں گی۔ دونوں کی ماہیت اور حالت میں عظیم فرق ہوگا۔ یہ مثال اسی مقصد کے لئے بیان کی گئی تھی کہ شانِ نبوّت کے باب میں ہمسری اور برابری کا گمان کلیتہً ردّ ہو جائے۔ جیسے ایک مالک کا غلام صحیح اور سالم رہا اور بہت سے بدخو مالکوں کا غلام تباہ حال ہوا اسی طرح اے حبیبِ مکرّم! آپ تو ایک ہی مالک کے برگزیدہ بندے اور محبوب و مقرب رسول ہیں سو وہ آپ کو ہر حال میں سلامت رکھے گا اور یہ کفار بہت سے بتوں اور شریکوں کی غلامی میں ہیں سو وہ انہیں بھی اپنی طرح دائمی ہلاکت کا شکار کر دیں گے۔

30. (O My Esteemed Beloved!) Surely, you will pass away (only to taste death) but they will certainly die (for everlasting death.* So the difference between the two deaths will be worth seeing).

* As the two cases cited in the Verse twenty-nine cannot be equal, likewise it is said that the passing of the Holy Prophet (blessings and peace be upon him) and the death of others can never be equal or alike; both are far different in reality and appearance. This example has been given just to refute the idea of equality and likeness with regard to the glory and dignity of the Prophethood. As the slave of one man is safe and secure and a slave shared by many bad masters is ruined—in like manner, O My Esteemed Beloved, you are the chosen servant of One Master and are His Beloved and intimate servant, so He will keep you secure and intact under all circumstances. But these disbelievers are the servants of so many idols and self-made gods, and they will make them fall victim to eternal extinction like themselves.

(az-Zumar, 39 : 30)