irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran irfan-ul-quran
Ayat of the Day: It is not Allah’s Glory that He should take (to Himself anyone as) a son. Holy and Glorified is He (above this). When He decrees any matter, He only says to it: ‘Be,’ and it becomes. (Maryam, 19:35)
irfan-ul-quran irfan-ul-quran
Irfan-ul-Quran: - al-Fath (Victory

Sura al-Fath

Sura : Madani by Tilawat : 48 by Reveal : 111 Ruku` : 4 Ayats : 29 Part No. : 26
In the Name of Allah, Most Compassionate, Ever-Merciful
1. (اے حبیبِ مکرم!) بیشک ہم نے آپ کے لئے (اسلام کی) روشن فتح (اور غلبہ) کا فیصلہ فرما دیا (اس لئے کہ آپ کی عظیم جدّ و جہد کامیابی کے ساتھ مکمل ہوجائے)o
1. (O Esteemed Beloved!) Surely, We decreed for you a clear victory (and the dominance of Islam so that your great struggle might be completed with success),
2. تاکہ آپ کی خاطر اللہ آپ کی امت (کے اُن تمام اَفراد) کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے٭ (جنہوں نے آپ کے حکم پر جہاد کیے اور قربانیاں دیں) اور (یوں اسلام کی فتح اور امت کی بخشش کی صورت میں) آپ پر اپنی نعمت (ظاہراً و باطناً) پوری فرما دے اور آپ (کے واسطے سے آپ کی امت) کو سیدھے راستہ پر ثابت قدم رکھےo
٭ یہاں حذفِ مضاف واقع ہوا ہے۔ مراد ”ما تقدم من ذنب أمتک و ما تاخر“ ہے، کیونکہ آگے اُمت ہی کے لئے نزولِ سکینہ، دخولِ جنت اور بخششِ سیئات کی بشارت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مضمون آیت نمبر 1 سے 5 تک ملا کر پڑھیں تو معنی خود بخود واضح ہو جائے گا؛ اور مزید تفصیل تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ جیسا کہ سورۃ المؤمن کی آیت نمبر 55 کے تحت مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ ”لِذَنبِکَ“ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے۔ لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاستَغفِر لِذَنبِکَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں:- 1: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) أی لذنب أمتک یعنی اپنی امت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، 4: 359)۔ 2: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) قیل: لذنب أمتک حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”واستغفر لذنبک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 15: 324)۔ 3: وَ قیل لذنبک لذنب أمتک فی حقک ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لذنبک یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزد ہونے والی خطاؤں کی بخشش طلب کیجئے۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، 7: 471)۔ 4: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ”کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ (علامہ شوکانی، فتح القدیر، 4: 497)۔
2. So that Allah forgives, for your sake, all the earlier and later sins (of all those people) of your Umma ([Community]* who struggled, fought and sacrificed by your command), and (this way) may complete His blessing on you (outwardly and inwardly) in the form of Islam’s victory and forgiveness for your Umma (Community), and may keep (your Umma) firm-footed on the straight path (through your mediation),
* The co-related noun is estimated and has been omitted here. The intention is ma taqaddama min dhanbi ummati-ka wa ma ta’akhkhar. It is because the following subject relates to glad tidings of sending down tranquillity, admission to Paradise and forgiveness of sins. If Verses 1 to 5 are studied together, the meaning will become self-evident. The leading exegetes have elucidated it under Verse 55 of Sura al-Mu’min. In li-dhanbi-ka the co-related noun is Umma which is omitted. On this basis, therefore, wa-staghfir li-dhanbi-ka denotes the sins committed by Umma. The leading scholars Imam al-Nasafi, Imam al-Qurtubi and al-Shawkani have drawn the same meaning. To summarise:

1. Wa-staghfir li-dhanbi-ka means li-dhanbi Ummati-ka, that is, the sins of your Umma. (al-Nasafi in Madarik al-Tanzil wa Haqa’iq al-Ta’wil, 4:359.)

2. Wa-staghfir li-dhanbi-ka means li-dhanbi Ummati-ka, hudhifa al-mudaf wa uqima al-mudaf il-ayh maqama-hu. It is stated that wa-staghfir li-dhanbi-ka implies the sins of Umma. The co-related noun has been omitted in the given phrase and is represented by the noun it is co-related to. (al-Qurtubi in al-Jami‘ li-Ahkam al-Qur’an, 15:324.)

3. Wa qila li-dhanbi Ummati-ka fi haqqi-ka. This is also expositioned that li-dhanbi-ka means for the misdeeds committed by Umma pertaining to what is your due. (Ibn Hayyan al-Andalusi in al-Bahr al-Muhit, 7:471.)

4. Wa-staghfir li-dhanbi-ka means dhanbi Ummati-ka, fa-huwa ‘ala hadhfi al-mudaf. It implies the sins of Umma and this interpretation is based on omission of the co-related noun. (al-Shawkani in Fath al-Qadir, 4:497.)
3. اور اﷲ آپ کو نہایت باعزت مدد و نصرت سے نوازےo
3. And so that Allah grants you most honourable help and support.
4. وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں تسکین نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان پر مزید ایمان کا اضافہ ہو، اور آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اﷲ ہی کے لئے ہیں، اور اﷲ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہےo
4. He is the One Who sent down calmness and tranquillity into the hearts of the believers so that their faith gets increased with more faith. And all the armies of the heavens and the earth belong to Allah alone. And Allah is All-Knowing, Most Wise.
5. (یہ سب نعمتیں اس لئے جمع کی ہیں) تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں رواں ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اور (مزید یہ کہ) وہ ان کی لغزشوں کو (بھی) ان سے دور کر دے (جیسے اس نے ان کی خطائیں معاف کی ہیں)۔ اور یہ اﷲ کے نزدیک (مومنوں کی) بہت بڑی کامیابی ہےo
5. (All these favours are put together) so that He admits the believing men and women to the Gardens with streams flowing under them. They will live in them forever. And (moreover) He removes from them their evil actions (as He has forgiven them their mistakes)—and this is a great success (of the believers) in the sight of Allah—
6. اور (اس لئے بھی کہ ان) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو اﷲ کے ساتھ بُری بدگمانیاں رکھتے ہیں، انہی پر بُری گردش (مقرر) ہے، اور ان پر اﷲ نے غضب فرمایا اور ان پر لعنت فرمائی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی، اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہےo
6. And (so that) He may punish the hypocritical men and women and the polytheistic men and women who entertain evil assumptions about Allah. For them is (predestined) an evil turn of fortune. And Allah has afflicted them with His wrath, has cursed them and has prepared for them Hell. And that is a very evil resting place.
7. اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اﷲ ہی کے لئے ہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہےo
7. And all armies of the heavens and the earth belong to Allah alone. And Allah is Almighty, Most Wise.
8. بیشک ہم نے آپ کو (روزِ قیامت گواہی دینے کے لئے اعمال و احوالِ امت کا) مشاہدہ فرمانے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہےo
8. Indeed, We have sent you as an eyewitness (of the actions and the state of affairs of Umma [Community] to bear testimony on the Day of Reckoning) and as a Bearer of good news and as a Warner,
9. تاکہ (اے لوگو!) تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین) کی مدد کرو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بے حد تعظیم و تکریم کرو، اور (ساتھ) اﷲ کی صبح و شام تسبیح کروo
9. So that, (O people,) you may believe in Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) and may help his (Din [Religion]), and revere and venerate him heart and soul, and (with that) glorify Allah morning and evening.
10. (اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اﷲ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہوگا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اس نے اﷲ سے عہد کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گاo
10. (O Beloved!) Indeed, those who pledge allegiance to you in fact pledge allegiance to Allah alone. Allah’s hand is over their hands (in the form of your hand). Then whoever breaks his pledge breaks it only to his own harm. But he who fulfils what he has promised to Allah, He will bless him with immense reward.
11. عنقریب دیہاتیوں میں سے وہ لوگ جو (حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے آپ سے (معذرۃً یہ) کہیں گے کہ ہمارے اموال اور اہل و عیال نے ہمیں مشغول کر رکھا تھا (اس لئے ہم آپ کی معیت سے محروم رہ گئے) سو آپ ہمارے لئے بخشش طلب کریں۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ (باتیں) کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔ آپ فرما دیں کہ کون ہے جو تمہیں اﷲ کے (فیصلے کے) خلاف بچانے کا اختیار رکھتا ہو اگر اس نے تمہارے نقصان کا ارادہ فرما لیا ہو یا تمہارے نفع کا ارادہ فرما لیا ہو، بلکہ اﷲ تمہارے کاموں سے اچھی طرح باخبر ہےo
11. Soon the Bedouins who lagged behind (from participating in al-Hudaybiya) will say to you (apologetically): ‘Our money matters and families kept us busy. (Therefore, we missed your company.) So ask forgiveness for us from Allah.’ They utter such (words) with their tongues that are not in their hearts. Say: ‘Who has the power to save you against (the decision) of Allah if He intends to do you harm, or if He intends to do you good? But Allah is Well Aware of what you do.
12. بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہلِ ایمان (یعنی صحابہ رضی اللہ عنھم) اب کبھی بھی پلٹ کر اپنے گھر والوں کی طرف نہیں آئیں گے اور یہ (گمان) تمہارے دلوں میں (تمہارے نفس کی طرف سے) خُوب آراستہ کر دیا گیا تھا اور تم نے بہت ہی برا گمان کیا، اور تم ہلاک ہونے والی قوم بن گئےo
12. No, in fact, you thought that the Messenger (blessings and peace be upon him) and the believers (his Companions) would never return to their families now, and (your ill-commanding selves) made that (thought) seem to your hearts far fascinating. And you imagined a highly evil speculation and became a people bound to perish.’
13. اور جو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لائے تو ہم نے کافروں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہےo
13. And whoever does not believe in Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him), then We have prepared Hell for the disbelievers.
14. اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اﷲ ہی کے لئے ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے، اور اﷲ بڑا بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہےo
14. And the Kingdom of the heavens and the earth belongs to Allah alone. He forgives whom He wills and punishes whom He wills. And Allah is Most Forgiving, Ever-Merciful.
15. جب تم (خیبر کے) اَموالِ غنیمت کو حاصل کرنے کی طرف چلو گے تو (سفرِ حدیبیہ میں) پیچھے رہ جانے والے لوگ کہیں گے: ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے پیچھے ہو کر چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ کے فرمان کو بدل دیں۔ فرما دیجئے: تم ہرگز ہمارے پیچھے نہیں آسکتے اسی طرح اﷲ نے پہلے سے فرما دیا تھا۔ سو اب وہ کہیں گے: بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، بات یہ ہے کہ یہ لوگ (حق بات کو) بہت ہی کم سمجھتے ہیںo
15. When you will set out to collect the spoils (of Khaybar), those who remained behind (in the march towards al-Hudaybiya) will say: ‘Allow us also to follow you.’ They seek to alter Allah’s Words. Say: ‘You shall by no means follow us. Allah said the same beforehand.’ So now they will say: ‘In fact, you are jealous of us.’ The truth is that they understand (the truth) but little.
16. آپ دیہاتیوں میں سے پیچھے رہ جانے والوں سے فرما دیں کہ تم عنقریب ایک سخت جنگ جو قوم (سے جہاد) کی طرف بلائے جاؤ گے تم ان سے جنگ کرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، سو اگر تم حکم مان لوگے تو اﷲ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ اور اگر تم رُوگردانی کرو گے جیسے تم نے پہلے رُوگردانی کی تھی تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے گاo
16. Say to the Bedouins lagging behind: ‘You will be called up soon (to fight) against a hard-hitting, warring people. Then you will fight them on (for the promotion of peace and human dignity), or they will become Muslims. So if you obey the command, Allah will give you an excellent reward. But if you turn away as you did before, He will make you suffer from an agonizing torment.’
17. (جہاد سے رہ جانے میں) نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ (ہی) بیمار پر کوئی گناہ ہے، اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے گا وہ اسے بہشتوں میں داخل فرما دے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، اور جو شخص (اطاعت سے) منہ پھیرے گا وہ اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کردے گاo
17. There is no blame on the blind or the lame or the sick (for their disability to fight). And He who obeys Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him), He will admit him to the Gardens with streams flowing under them. But whoever turns away (from obedience), He will punish him with a grievous torment.
18. بیشک اﷲ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، سو جو (جذبۂ صِدق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اﷲ نے معلوم کر لیا تو اﷲ نے ان (کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتحِ (خیبر) کا انعام عطا کیاo
18. Surely, Allah was well pleased with the believers when they pledged allegiance to you under the tree (at al-Hudaybiya). So (the passion of truth and fidelity) that permeated their hearts, Allah had its knowledge and sent down an exceptional calmness and tranquillity (into their hearts, and awarded them the forthcoming victory (of Khaybar),
19. اور بہت سے اموالِ غنیمت (بھی) جو وہ حاصل کر رہے ہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہےo
19. And (also) the abundant spoils that they are taking and Allah is Almighty, Most Wise.
20. اور اﷲ نے (کئی فتوحات کے نتیجے میں) تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جو تم آئندہ حاصل کرو گے مگر اس نے یہ (غنیمتِ خیبر) تمہیں جلدی عطا فرما دی اور (اہلِ مکہّ، اہلِ خیبر، قبائل بنی اسد و غطفان الغرض تمام دشمن) لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے، اور تاکہ یہ مومنوں کے لئے (آئندہ کی کامیابی و فتح یابی کی) نشانی بن جائے۔ اور تمہیں (اطمینانِ قلب کے ساتھ) سیدھے راستہ پر (ثابت قدم اور)گامزن رکھےo
20. And Allah has promised you abundant spoils (resulting from many victories) which you will win, but He has hastened to you this (booty of Khaybar) and has held back from you the hands of the people (of Mecca, Khaybar, Banu Asad and Ghatafan tribes and all other enemies), so that it may become a sign for the believers (of the forthcoming triumph and victory), and that He may keep you treading the straight road (firm-footed and with tranquil hearts).
21. اور دوسری (مکّہ، ہوازن اور حنین سے لے کر فارس اور روم تک کی بڑی فتوحات) جن پر تم قادر نہ تھے بیشک اﷲ نے (تمہارے لئے) ان کا بھی احاطہ فرما لیا ہے، اور اﷲ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھنے والا ہےo
21. And other (big victories of Mecca, Hawazin and Hunayn, then Persia and Rome) over which you had no power—surely Allah has also encompassed them (for you), and Allah wields Absolute Power over everything.
22. اور (اے مومنو!) اگر کافر لوگ (حدیبیہ میں) تم سے جنگ (شروع) کر دیتے تو وہ ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے، پھر وہ نہ کوئی دوست پاتے اور نہ مددگار (مگر اﷲ کو معاہدۂ اَمن کے ذریعے تمہارے لیے کئی فتوحات کا دروازہ کھولنا مقصود تھا)o
22. And, (O believers,) if the disbelievers had (initiated war and) fought with you (at al-Hudaybiya), they would certainly have fled turning their backs and found no friend and helper. (But Allah intended to open the door of victories to you through the treaty of peace.)
23. (یہ) اﷲ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے، اور آپ اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گےo
23. (This) is Allah’s pattern that has been established through time, and you will never find any change in the Laws of Allah.
24. اور وہی ہے جس نے سرحدِ مکّہ پر (حدیبیہ کے قریب) ان (کافروں) کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان (کے گروہ) پر غلبہ بخش دیا تھا۔ اور اﷲ ان کاموں کو جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہےo
24. And He is the One Who held back the hands of those (disbelievers) from you and your hands from them on the frontier of Mecca (near al-Hudaybiya) after giving you the upper hand over their (party). And Allah best monitors what you do.
25. یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو بھی، جو اپنی جگہ پہنچنے سے رکے پڑے رہے، اور اگر کئی ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں (مکہّ میں موجود نہ ہوتیں) جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو کہ تم انہیں پامال کر ڈالو گے اور تمہیں بھی لاعلمی میں ان کی طرف سے کوئی سختی اور تکلیف پہنچ جائے گی (تو ہم تمہیں اِسی موقع پر ہی جنگ کی اجازت دے دیتے۔ مگر فتحِ مکّہ کو مؤخّر اس لئے کیا گیا) تاکہ اﷲ جسے چاہے (صلح کے نتیجے میں) اپنی رحمت میں داخل فرما لے۔ اگر (وہاں کے کافر اور مسلمان) الگ الگ ہو کر ایک دوسرے سے ممتاز ہو جاتے تو ہم ان میں سے کافروں کو دردناک عذاب کی سزا دیتےo
25. It is they who disbelieved and hindered you from the Sacred Mosque, and prevented the sacrificial animals as well that were kept from reaching their place. And had there not been many such believing men and women (present in Mecca) as you also did not know that you might crush them underfoot without knowing, and some harm and hardship might also be caused to you by them inadvertently, (We would have allowed you there and then to fight. But the victory of Mecca was delayed) so that Allah might admit to His mercy whom He willed. Had (the disbelievers and the believers there) distinguishably drawn apart from one another, We would have punished the disbelievers with a painful torment.
26. جب کافر لوگوں نے اپنے دلوں میں متکبّرانہ ہٹ دھرمی رکھ لی (جو کہ) جاہلیت کی ضِد اور غیرت (تھی) تو اﷲ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں پر اپنی خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں کلمہء تقوٰی پر مستحکم فرما دیا اور وہ اسی کے زیادہ مستحق تھے اور اس کے اہل (بھی) تھے، اور اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo
26. Whilst the disbelievers anchored in their hearts the conceited obstinacy (which was) stubbornness and egocentricity of the days of ignorance, Allah sent down on His Messenger (blessings and peace be upon him) and the believers an exceptional calmness and tranquillity and made them firm on the word of Godwariness. And it is this that they were most entitled to and (also) worthy of. And Allah knows everything full well.
27. بیشک اﷲ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حقیقت کے عین مطابق سچا خواب دکھایا تھا کہ تم لوگ، اگر اﷲ نے چاہا تو ضرور بالضرور مسجدِ حرام میں داخل ہو گے امن و امان کے ساتھ، (کچھ) اپنے سر منڈوائے ہوئے اور (کچھ) بال کتروائے ہوئے (اس حال میں کہ) تم خوفزدہ نہیں ہو گے، پس وہ (صلح حدیبیہ کو اس خواب کی تعبیر کے پیش خیمہ کے طور پر) جانتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے سو اس نے اس (فتحِ مکہ) سے بھی پہلے ایک فوری فتح (حدیبیہ سے پلٹتے ہی فتحِ خیبر) عطا کر دی (اور اس سے اگلے سال فتحِ مکہ اور داخلۂ حرم عطا فرما دیا)o
27. Surely, Allah showed His Messenger (blessings and peace be upon him) the dream exactly true to the reality that, if Allah wills, you will most certainly enter the Sacred Mosque safely, (some) with heads shaved and (some) with hair cut short, (in a state of security,) having no fear. So He knew (the al-Hudaybiya treaty as a preamble to the truth of the dream) which you did not know, and gave you an immediate victory (the victory of Khaybar even before the victory of Mecca, soon after returning from al-Hudaybiya. The next year He bestowed the victory of Mecca and entry to the Sacred Mosque.)
28. وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دینِ حق عطا فرما کر بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و حقانیت پر) اﷲ ہی گواہ کافی ہےo
28. He is the One Who sent His Messenger (blessings and peace be upon him) with guidance and the Din (Religion) of truth to make it prevail over all other religions. And Allah is Sufficient as a witness (to the truthfulness and veracity of the Messenger [blessings and peace be upon him]).
29. محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ آپ انہیں کثرت سے رکوع کرتے ہوئے، سجود کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ (صرف) اﷲ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار ہیں۔ اُن کی نشانی اُن کے چہروں پر سجدوں کا اثر ہے (جو بصورتِ نور نمایاں ہے)۔ ان کے یہ اوصاف تورات میں (بھی مذکور) ہیں اور ان کے (یہی) اوصاف انجیل میں (بھی مرقوم) ہیں۔ وہ (صحابہ ہمارے محبوبِ مکرّم کی) کھیتی کی طرح ہیں جس نے (سب سے پہلے) اپنی باریک سی کونپل نکالی، پھر اسے طاقتور اور مضبوط کیا، پھر وہ موٹی اور دبیز ہوگئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی (اور جب سرسبز و شاداب ہو کر لہلہائی تو) کاشتکاروں کو کیا ہی اچھی لگنے لگی (اﷲ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو اسی طرح ایمان کے تناور درخت بنایا ہے) تاکہ اِن کے ذریعے وہ (محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جلنے والے) کافروں کے دل جلائے، اﷲ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہےo
29. Muhammad (blessings and peace be upon him) is the Messenger of Allah. And those with him are hard and tough against the disbelievers but kind-hearted and merciful amongst themselves. You see them excessively bowing and prostrating themselves. They simply seek Allah’s grace and pleasure. Their mark is an impression of prostrations on their faces (prominent on the foreheads as light). These traits of theirs are (mentioned) in the Torah and the (same) qualities are also (described) in the Injil (the Gospel). These (Companions) are like a cultivated crop (of Our Esteemed Beloved) which (first of all) brought forth its thin shoot, then made it powerful and strong, and then it thickened and stood straight on its stalk. (And when it flourished, bloomed and danced,) it delighted and charmed the cultivators. (Allah has, likewise, made the Companions of His Beloved strong, grown up trees of faith,) so that by means of them He would inflame the hearts of the disbelievers (that burn in the jealousy of the Holy Prophet Muhammad [blessings and peace be upon him]). Those who believe and do pious works, Allah has promised them forgiveness and an immense reward.
Previous Sura     Index     Next Sura
Read Quran | Listen to Quran | Search Quran | Download Quran | Buy Quran
Comments | The Translator | Site Map | Privacy Policy | Urdu version | Download Fonts
Minhaj-ul-Quran | Welfare | Overseas | Multimedia | Books | Durood | Magazines | Publications
irfan-ul-quran irfan-ul-quran
Developed By : Minhaj Internet Bureau, Lahore PK
elearning Minhaj-ul-Quran