سورہ آلِ عمران باتفاقِ علماء مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ اس سورہ میں بڑے واضح انداز سے اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ انسان کی ہدایت کے لیے اس کے خالق نے جو ضابطہ عطاء فرمایا وہ ایک ہی ہے اور اس کا نام ہے دین اسلام۔ اس دین کے اساسی عقائد اور بنیادی اصول زمان ومکان کے اختلاف و تعدد کے باوجود ازلی و ابدی ہیں۔ تمام انبیاء ایک ہی دین کے داعی اور مبلغ تھے اس لیے ہر نبی نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و رسل کی تصدیق کی اور اپنی اپنی امتوں کو بعد میں آنے والے انبیاء پر ایمان لانے کی ہدایت کی۔ اسی سنت پر حضورکریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نےعمل فرمایا اور تمام انبیاء و رسلِ سابقین کی تصدیق کی۔ لیکن حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد کیونکہ کوئی اور نبی مبعوث ہونے والا نہیں تھا۔ اس لیے کسی نئے نبی پر ایمان لانے کا حکم نہیں دیا۔ ختم نبوت کی یہ بھی بڑی واضح دلیل ہے۔ اس سورت میں ان تمام امورکا ذکر کر کے یہ بتادیا کہ انسانوں کی ان برسر پیکار جماعتوں کا اتحاد و اتفاق اگر ہوسکتا ہے تو صرف اسلام کے جھنڈے کے نیچے اور حضور رحمتہ للعٰمین ﷺ کی قیادت میں ہی ہو سکتا ہے۔

Play Copy

فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴿۱۹۵﴾

195. پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا:) یقیناً میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے میں سے (ہی) ہو، پس جن لوگوں نے (اللہ کے لئے) وطن چھوڑ دیئے اور (اسی کے باعث) اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور (میری خاطر) لڑے اور مارے گئے تو میں ضرور ان کے گناہ ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دوں گا اور انہیں یقیناً ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ اللہ کے حضور سے اجر ہے، اور اللہ ہی کے پاس (اس سے بھی) بہتر اجر ہےo

195. Then their Lord accorded approval to their supplication (and said:) ‘Certainly, I do not waste the wages of any labourer, whether man or woman; you all are from one another. So those who have emigrated (for the cause of Allah) and have been driven out of their dwellings (for Him alone) and have been offended in My way and fought for My sake and were slain, I shall verily erase their sins from their record of works, and admit them to the Gardens beneath which rivers flow. This is the reward from Allah, and (even) better reward (than this) lies with Allah alone.

(آل عِمْرَان، 3 : 195)