سورہ آلِ عمران باتفاقِ علماء مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ اس سورہ میں بڑے واضح انداز سے اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ انسان کی ہدایت کے لیے اس کے خالق نے جو ضابطہ عطاء فرمایا وہ ایک ہی ہے اور اس کا نام ہے دین اسلام۔ اس دین کے اساسی عقائد اور بنیادی اصول زمان ومکان کے اختلاف و تعدد کے باوجود ازلی و ابدی ہیں۔ تمام انبیاء ایک ہی دین کے داعی اور مبلغ تھے اس لیے ہر نبی نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و رسل کی تصدیق کی اور اپنی اپنی امتوں کو بعد میں آنے والے انبیاء پر ایمان لانے کی ہدایت کی۔ اسی سنت پر حضورکریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نےعمل فرمایا اور تمام انبیاء و رسلِ سابقین کی تصدیق کی۔ لیکن حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد کیونکہ کوئی اور نبی مبعوث ہونے والا نہیں تھا۔ اس لیے کسی نئے نبی پر ایمان لانے کا حکم نہیں دیا۔ ختم نبوت کی یہ بھی بڑی واضح دلیل ہے۔ اس سورت میں ان تمام امورکا ذکر کر کے یہ بتادیا کہ انسانوں کی ان برسر پیکار جماعتوں کا اتحاد و اتفاق اگر ہوسکتا ہے تو صرف اسلام کے جھنڈے کے نیچے اور حضور رحمتہ للعٰمین ﷺ کی قیادت میں ہی ہو سکتا ہے۔

Play Copy

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ۪ وَ غَرَّہُمۡ فِیۡ دِیۡنِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

24. یہ (روگردانی کی جرات) اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا دوزخ کی آگ مَس نہیں کرے گی، اور وہ (اللہ پر) جو بہتان باندھتے رہتے ہیں اس نے ان کو اپنے دین کے بارے میں فریب میں مبتلا کر دیا ہےo

24. This (courage to deviate) is because they say: ‘The Fire of Hell will not touch us except for a few numbered days.’ And the lies that they invent (about Allah) have deluded them with regard to their din (religion).

(آل عِمْرَان، 3 : 24)