سورۃ ہود میں حضرت ہود علیہ السلام کا تذکرہ ہے اس مناسبت سے اسے آپ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ہجرت سے کچھ عرصہ پہلے اس کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا۔ پہلے دو رکوعوں میں حسب سابق بڑے موثر پیرایہ میں کفار کے سامنے اسلام کے بنیادی عقائد توحید، وحی، رسالت اور قیامت پیش کئے گئے ہیں۔پھر انہیں فرمایا کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا بنایا ہوا ہے تو پھر تم سب مل کر اس کی مثل کیوں پیش نہیں کر دیتے؟ زیادہ نہیں تو دس سورتیں ہی اس جیسی بنا لاؤ۔ اگر ملکِ سخنوری کے تاجدار ہونے کے باوجود تم دس سورتیں بھی پیش کرنے سے قاصر ہو تو پھر بےجا ضد نہ کرو اور مان لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا لانے والا اس کا سچا رسول ہے۔

Play Copy

وَ قِیۡلَ یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَ غِیۡضَ الۡمَآءُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ وَ اسۡتَوَتۡ عَلَی الۡجُوۡدِیِّ وَ قِیۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾

44. اور (جب سفینۂ نوح کے سوا سب ڈوب کر ہلاک ہو چکے تو) حکم دیا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان! تو تھم جا، اور پانی خشک کر دیا گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری، اور فرما دیا گیا کہ ظالموں کے لئے (رحمت سے) دوری ہےo

44. (And when all were drowned and annihilated except Nuh’s [Noah’s] Ark) it was commanded: ‘O earth, swallow up your water and, O sky, cease pouring.’ And the water was dried and the command was executed and the Ark came to rest on Mount al-Judi and it was said: ‘Far away are the unjust (from mercy)!’

(هُوْد، 11 : 44)