اس سورہ پاک کا نام ’سبا‘ ہے۔ یہ سورہ مکی ہے۔ سورہ کی ابتدا حمد باری تعالیٰ سے کی جا رہی ہے اور اس کی کبریائی اور عظمت کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ نیز بتا دیا کہ حضور نبی رحمت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تمام نوع انسانی کے لئے تا قیام قیامت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راہنما بن کر تشریف لے آئے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نہ کسی نئے نبی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی نیا نبی مبعوث ہوگا۔

Play Copy

وَ مَا کَانَ لَہٗ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَۃِ مِمَّنۡ ہُوَ مِنۡہَا فِیۡ شَکٍّ ؕ وَ رَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَفِیۡظٌ ﴿٪۲۱﴾

21. اور شیطان کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر یہ اس لئے (ہوا) کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے ممتاز کر دیں جو اس کے بارے میں شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہےo

21. And Satan had no power over them but for the reason that We might distinguish those who believe in the Hereafter from those who are in doubt about it. And your Lord is Watchful over everything.

(سَبـَا، 34 : 21)