سورۃ یوسف میں کیونکہ حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکرِ خیر شرح و بسط سے کیا گیا ہے اس لیے اس سورت کو آپ ہی کے نام نامی سے موسوم کیا گیا۔ صحیح قول کے مطابق یہ ساری سورہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتا کر تسلی دی کہ جس طرح برادران یوسف کے ناپاک منصوبے ناکام ہوئے اور سب کو چار و ناچار حضرت یوسف علیہ السلام کی عظمت کو تسلیم کرنا پڑا اسی طرح ایک دن وہ بھی آنیوالا ہے جب قریش آپ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں گے اور آپ کے دامن رحمت سے وابسہ ہونے میں ہی اپنی نجات یقین کریں گے۔

Play Copy

یُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ٜ وَ اسۡتَغۡفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِئِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾

29. اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور (اے زلیخا!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے تھیo

29. O Yusuf (Joseph)! Ignore it and, (O Zulaykha,) ask forgiveness for your sin. Surely, it is you who are of the sinful.’

(يُوْسُف، 12 : 29)