اس سورت کا نام العنکبوت ہے اور یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صرف وہی لوگ سرفراز ہوتے ہیں جو آزمائش کی کٹھن گھڑیوں میں ثابت قدم رہتے ہیں اور امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور اہلِ ایمان کو حوصلہ دیا گیا ہے، دلائل توحید بیان کیے گئے ہیں۔

Play Copy

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَلَبِثَ فِیۡہِمۡ اَلۡفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمۡسِیۡنَ عَامًا ؕ فَاَخَذَہُمُ الطُّوۡفَانُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾

14. اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ایک ہزار سال رہے، پھر ان لوگوں کو طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھےo

14. And indeed We sent Nuh (Noah) to his people. He lived amongst them for a millennium less fifty years. Then the Great Flood seized them whilst they were wrongdoers.

(الْعَنْکَبُوْت، 29 : 14)