اس سورت کا نام العنکبوت ہے اور یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صرف وہی لوگ سرفراز ہوتے ہیں جو آزمائش کی کٹھن گھڑیوں میں ثابت قدم رہتے ہیں اور امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور اہلِ ایمان کو حوصلہ دیا گیا ہے، دلائل توحید بیان کیے گئے ہیں۔

Play Copy

وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ ۫ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾

28. اور لوط (علیہ السلام) کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: بیشک تم بڑی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو، اقوامِ عالم میں سے کسی ایک (قوم) نے (بھی) اس (بے حیائی) میں تم سے پہل نہیں کیo

28. And (remember) Lut (Lot) when he said to his people: ‘Surely, you commit the worst indecency. None of the nations in the whole world has ever committed this (indecency) before you.

(الْعَنْکَبُوْت، 29 : 28)