اس سورت کا نام العنکبوت ہے اور یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صرف وہی لوگ سرفراز ہوتے ہیں جو آزمائش کی کٹھن گھڑیوں میں ثابت قدم رہتے ہیں اور امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور اہلِ ایمان کو حوصلہ دیا گیا ہے، دلائل توحید بیان کیے گئے ہیں۔

Play Copy

اَئِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ وَ تَقۡطَعُوۡنَ السَّبِیۡلَ ۬ۙ وَ تَاۡتُوۡنَ فِیۡ نَادِیۡکُمُ الۡمُنۡکَرَ ؕ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتِنَا بِعَذَابِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾

29. کیا تم (شہوت رانی کے لئے) مَردوں کے پاس جاتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہو اور اپنی (بھری) مجلس میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو، تو ان کی قوم کا جواب (بھی) اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے: تم ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہوo

29. Do you approach men (for your sexual desire) and commit highway robberies and do indecent deeds in your (crowded) meetings?’ And his people (also) had no answer except that they said: ‘Bring Allah’s torment upon us if you are truthful.’

(الْعَنْکَبُوْت، 29 : 29)