اس سورت کا نام العنکبوت ہے اور یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صرف وہی لوگ سرفراز ہوتے ہیں جو آزمائش کی کٹھن گھڑیوں میں ثابت قدم رہتے ہیں اور امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور اہلِ ایمان کو حوصلہ دیا گیا ہے، دلائل توحید بیان کیے گئے ہیں۔

Play Copy

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾

3. اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو (بھی) آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے سو یقیناً اللہ ان لوگوں کو ضرور (آزمائش کے ذریعے) نمایاں فرما دے گا جو (دعوٰی ایمان میں) سچے ہیں اور جھوٹوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گاo

3. And surely, We tried (also) those who were before them. Allah will certainly show up (through trial) those who are truthful (in claiming beliefs), and shall make the liars (as well) stand out.

(الْعَنْکَبُوْت، 29 : 3)