اس سورت کا نام العنکبوت ہے اور یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صرف وہی لوگ سرفراز ہوتے ہیں جو آزمائش کی کٹھن گھڑیوں میں ثابت قدم رہتے ہیں اور امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور اہلِ ایمان کو حوصلہ دیا گیا ہے، دلائل توحید بیان کیے گئے ہیں۔

Play Copy

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۴﴾

4. کیا جو لوگ برے کام کرتے ہیں یہ گمان کئے ہوئے ہیں کہ وہ ہمارے (قابو) سے باہر نکل جائیں گے؟ کیا ہی برا ہے جو وہ (اپنے ذہنوں میں) فیصلہ کرتے ہیںo

4. Do the evildoers think that they will slip away from Our (grip)? How evil is what they decide (in their minds)!

(الْعَنْکَبُوْت، 29 : 4)