رسول کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوئے تو یہ سورہ نازل ہوئی۔ یہاں اسلامی دعوت کے جو مخاطب تھے وہ مکہ کے باشندوں سے مذہبی، ذہنی اور عمرانی اعتبار سے مختلف تھے۔ خود دعوت اسلامی جس مرحلہ میں داخل ہورہی تھی اس کی ضروریات اور تقاضے بھی بالکل نئے تھے۔ اس لیے ہمیں اس سورہ میں مکی سورتوں کے اعتبار سے بین اور صاف فرق معلوم ہوتا ہے۔ اس سورت میں اسلام کے قانون، آئین اور سیاست کے بیشتر قواعد و ضوابط بیان فرما دیئے گئے ہیں۔ اس سورت میں ملت اسلامیہ کے لیے قبلہ کا تعین بھی فرما دیا تاکہ ان کی توجہات کا ظاہری مرکز بھی ایک ہی ہو جائے اور ان کی عبادتیں انتشار کا شکار ہو کر اپنا جماعتی حسن نہ کھو دیں۔ اگر ان امور کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آپ سورہ بقرۃ کا مطالعہ کریں گے تو زیادہ مفید ثابت ہوگا۔

Play Copy

وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱۰﴾

110. اور نماز قائم (کیا) کرو اور زکوٰۃ دیتے رہا کرو، اور تم اپنے لئے جو نیکی بھی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے حضور پا لو گے، جو کچھ تم کر رہے ہو یقینا اللہ اسے دیکھ رہا ہےo

110. And (always) establish Prayer and pay Zakat (the Alms-due) regularly. And whatever virtue you will send ahead, you shall find it with Allah. Surely, Allah is watching all that you are doing.

(الْبَقَرَة، 2 : 110)