اس سورت پاک کا نام النمل ہے۔ اس سورت کا تعلق بھی مکی زندگی کے درمیانی عہد سے ہے۔ اس سورت میں اہل ایمان کے لیے مژدہ رحمت، ایمان بالآخرت کی اہمیت اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کی سیرت بیان کی گئی ہے۔

Play Copy

حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَکَذَّبۡتُمۡ بِاٰیٰتِیۡ وَ لَمۡ تُحِیۡطُوۡا بِہَا عِلۡمًا اَمَّا ذَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۴﴾

84. یہاں تک کہ جب وہ سب (مقامِ حساب پر) آپہنچیں گے تو ارشاد ہوگا کیا تم (بغیر غور و فکر کے) میری آیتوں کو جھٹلاتے تھے حالانکہ تم (اپنے ناقص) علم سے انہیں کاملاً جان بھی نہیں سکے تھے یا (تم خود ہی بتاؤ) اس کے علاوہ اور کیا (سبب) تھا جو تم (حق کی تکذیب) کیا کرتے تھےo

84. Till, when they all reach (the point of reckoning), it will be said: ‘Did you reject My Revelations (without meditating on them), whereas you could not thoroughly understand them with (your inadequate) knowledge? Or (tell yourselves) what else was (the reason) that you used to (belie the truth).’

(النَّمْل، 27 : 84)