اس سورہ پاک کے متعدد نام منقول ہیں لیکن ان میں سے دو زیادہ مشہور ہیں: التوبہ اور البرائۃ۔ اس سورہ میں چند مخلص اہلِ ایمان کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اس لیے اسے التوبہ کہا گیا ہے اور اس میں مشرکینِ عرب کے ساتھ سابقہ تمام معاہدات منسوخ ہونے کا ذکر ہونے کی وجہ سے اسے براءت کہا گیا ہے۔ اس سورہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے پہلے بسم اللہ شریف نہیں لکھی جاتی۔ اس کی صحیح وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں دیا اس لیے نہیں لکھی گئی۔ اس سورۃ میں کعبہ سے کفار کی تولیت ختم کر دی گئی ہے اور حکم فرمایا گیا ہے کہ آج کے بعد مسلمان ہی کعبہ اور مسجدِ حرام کی خدمت انجام دیا کریں گے۔

Play Copy

فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡہُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ وَ خُذُوۡہُمۡ وَ احۡصُرُوۡہُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾

5. پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم (حسب اعلان جن) مشرکوں (نے تمہارے خلاف پہلے ہی سے جنگ شروع کر دی ہے، میدان جنگ میں ان) کو جہاں کہیں پاؤ قتل کر دو یا اُنہیں گرفتار کر لو اور انہیں قید کر دو اور (انہیں پکڑنے اور گھیرنے کے لیے) ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو، پس اگر وہ (قیدی بنا لیے جانے کے بعد) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو (انہیں قید سے رہائی دیتے ہوئے) ان کا راستہ چھوڑ دو (کیونکہ اس صورت میں بھی معاہدۂ امن کی طرح جنگ کا جواز ختم ہوجائے گا)۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

5. So when the forbidden months are over, kill the (combatant) idolaters (who have already initiated war against you) wherever you find them (in the battlefield) or capture them and imprison them or lie in wait for them at every place of ambush (to besiege them). But, if they repent (after being taken as captives) and perform the prayer and give the alms, then leave their way open (by releasing them from captivity). Indeed, Allah is Most-Forgiving, Ever-Merciful.

(التَّوْبَة، 9 : 5)