سورۃ ہود میں حضرت ہود علیہ السلام کا تذکرہ ہے اس مناسبت سے اسے آپ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ہجرت سے کچھ عرصہ پہلے اس کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا۔ پہلے دو رکوعوں میں حسب سابق بڑے موثر پیرایہ میں کفار کے سامنے اسلام کے بنیادی عقائد توحید، وحی، رسالت اور قیامت پیش کئے گئے ہیں۔پھر انہیں فرمایا کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا بنایا ہوا ہے تو پھر تم سب مل کر اس کی مثل کیوں پیش نہیں کر دیتے؟ زیادہ نہیں تو دس سورتیں ہی اس جیسی بنا لاؤ۔ اگر ملکِ سخنوری کے تاجدار ہونے کے باوجود تم دس سورتیں بھی پیش کرنے سے قاصر ہو تو پھر بےجا ضد نہ کرو اور مان لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا لانے والا اس کا سچا رسول ہے۔

Play Copy

اِنِّیۡ تَوَکَّلۡتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ ؕ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۵۶﴾

56. بیشک میں نے اللہ پر توکل کر لیا ہے جو میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے، کوئی چلنے والا (جاندار) ایسا نہیں مگر وہ اسے اس کی چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے (یعنی مکمل طور پر اس کے قبضۂ قدرت میں ہے)۔ بیشک میرا رب (حق و عدل میں) سیدھی راہ پر (چلنے سے ملتا) ہےo

56. Surely, I have put my trust in Allah, Who is my Lord (as well as) your Lord. And there is not a moving (living) creature, but He holds it by its forelock (i.e., is completely in the grip of His mighty control). Surely, my Lord is (found by treading) the straight road (of truth and justice).

(هُوْد، 11 : 56)