سورۃ ہود میں حضرت ہود علیہ السلام کا تذکرہ ہے اس مناسبت سے اسے آپ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ہجرت سے کچھ عرصہ پہلے اس کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا۔ پہلے دو رکوعوں میں حسب سابق بڑے موثر پیرایہ میں کفار کے سامنے اسلام کے بنیادی عقائد توحید، وحی، رسالت اور قیامت پیش کئے گئے ہیں۔پھر انہیں فرمایا کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا بنایا ہوا ہے تو پھر تم سب مل کر اس کی مثل کیوں پیش نہیں کر دیتے؟ زیادہ نہیں تو دس سورتیں ہی اس جیسی بنا لاؤ۔ اگر ملکِ سخنوری کے تاجدار ہونے کے باوجود تم دس سورتیں بھی پیش کرنے سے قاصر ہو تو پھر بےجا ضد نہ کرو اور مان لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا لانے والا اس کا سچا رسول ہے۔

Play Copy

وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا ہُوۡدًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا ۚ وَ نَجَّیۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۵۸﴾

58. اور جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا (تو) ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ ایمان والوں کو اپنی رحمت کے باعث بچا لیا، اور ہم نے انہیں سخت عذاب سے نجات بخشیo

58. And when Our command (of torment) came to pass, (then) We saved Hud and the believers with him because of Our mercy, and We delivered them from severe punishment.

(هُوْد، 11 : 58)