اس سورہ پاک کا نام ’سبا‘ ہے۔ یہ سورہ مکی ہے۔ سورہ کی ابتدا حمد باری تعالیٰ سے کی جا رہی ہے اور اس کی کبریائی اور عظمت کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ نیز بتا دیا کہ حضور نبی رحمت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تمام نوع انسانی کے لئے تا قیام قیامت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راہنما بن کر تشریف لے آئے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نہ کسی نئے نبی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی نیا نبی مبعوث ہوگا۔

Play Copy

وَ لَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَہٗ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِہِمۡ قَالُوۡا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّکُمۡ ؕ قَالُوا الۡحَقَّ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۲۳﴾

23. اور اس کی بارگاہ میں شفاعت نفع نہ دے گی سوائے جس کے حق میں اس نے اِذن دیا ہوگا، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جائے گی تو وہ (سوالاً) کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ (جواباً) کہیں گے: 'حق فرمایا' (یعنی اذن دے دیا)، وہی نہایت بلند، بہت بڑا ہےo

23. And no intercession with His presence will be of any benefit except from someone He has granted permission, until when fright is removed from their hearts and they will say, (inquiring): ‘What has your Lord said?’ They will say (in reply): ‘He has said the truth,’ (i.e., has granted the permission). And He alone is Most High, Most Great.

(سَبـَا، 34 : 23)