سورۃ یونس کو حضرت یونس علیہ السلام کے نام سے منسوب کیا گیا ہے کیونکہ اس کے ایک رکوع میں آپ کی قوم کی نجات کا ذکر ہوا ہے۔ اس سورۃ کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا ہے۔ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی اس لیے کے مخاطب بھی وہی لوگ تھے۔ وہی ان کی بیماریاں تھیں، وہی ان کے شبہات تھے اور وہی ان کا رویہ تھا جن کا ذکر گزشتہ مکی سورتوں میں گزرچکا ہے۔ اس لیے اس سورہ میں بھی انہی لوگوں کی اصلاح کی مشفقانہ کو ششیں کی جا رہی ہیں اور بڑے پیار بھرے انداز سے ان کے اعتراضات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ مشرکین کے دل میں کھٹکنے والے جتنے شکوک و شہبات تھے ان کا حکیمانہ اور مشفقانہ جواب دیا تاکہ اگر کوئی پھر بھی حق کا انکار کرے تو اس کی مرضی اور اس کی قسمت‘ کم ازکم یہ تو کوئی نہ کہے کہ مجھے سمجھایا نہیں گیا تھا۔

Play Copy

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸﴾

48. اور وہ (طعنہ زنی کے طور پر) کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (عذاب) کب (پورا) ہوگا (مسلمانو! بتاؤ) اگر تم سچے ہوo

48. And they say (sarcastically): ‘When will this promise (of torment) be (fulfilled? Tell us, O Muslims,) if you are truthful.’

(يُوْنـُس، 10 : 48)